Baaghi TV

اسپین نے ایران جنگ سے منسلک طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی

Spain shuts airspace to aircraft involved in Iran war

اسپین نے ایران جنگ میں شامل طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد امریکی اور دیگر متعلقہ پروازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے تحت اسپین میں موجود اہم فوجی اڈوں روٹا نیول بیس اور مورون ایئر بیس کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔یورپی میڈیا اور اخبار نے فوجی ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ یہ پابندی ان تمام طیاروں پر لاگو ہوگی جو ایران کے خلاف جاری جنگ سے کسی بھی طرح منسلک ہیں۔ اس میں وہ امریکی فوجی پروازیں بھی شامل ہو سکتی ہیں جو برطانیہ یا فرانس سے اڑان بھر کر مشرقِ وسطیٰ جاتی ہیں۔

اس فیصلے کے باعث امریکی فوجی طیاروں کو اب مشرقِ وسطیٰ پہنچنے کے لیے اسپین کی فضائی حدود سے گریز کرنا ہوگا، جس سے ان کے راستے طویل اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔اسپین کے وزیرِ معیشت کارلوس کیورپو نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ یہ فیصلہ اس حکومتی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت اسپین کسی ایسی جنگ میں حصہ نہیں لے گا جو یکطرفہ طور پر شروع کی گئی ہو اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہو۔

دوسری جانب اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سخت ناقد رہے ہیں اور انہیں “غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی” قرار دے چکے ہیں۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسپین نے امریکی فوج کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو واشنگٹن میڈرڈ کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کر سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین کا یہ اقدام عالمی سطح پر ایران جنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تقسیم اور اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس سے نیٹو اتحادیوں کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

More posts