Baaghi TV

اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار

staet bank

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی شعبے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت 7.4 فیصد پر برقرار ہے، جو پالیسی ریٹ کے حوالے سے ایک اہم اشاریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا جا رہا ہے تاہم بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور موجود ہے، جس پر اسٹیٹ بینک گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

جمیل احمد نے بیرونی شعبے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) میں کمی جبکہ درآمدات (امپورٹس) میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تجارتی توازن کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درآمدی دباؤ کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ مانیٹری پالیسی کا بنیادی مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا، مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ پالیسی فیصلے آنے والے معاشی اعداد و شمار، عالمی مالیاتی حالات اور اندرونی معاشی دباؤ کو دیکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو وقتی استحکام ملے گا، تاہم برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کا رجحان طویل مدت میں معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

More posts