سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سکھر میں بجلی کی ترسیل کرنے والے ادارے Sukkur Electric Power Company (SEPCO) کے خلاف مبینہ کرپشن کی خبروں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک انوکھا اور متنازع اقدام سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ای او سیپکو اعجاز چنہ کے حکم پر افسران اور ملازمین نے دفاتر اور فیلڈ ڈیوٹیاں چھوڑ کر احتجاج کیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
افسران اور فیلڈ ملازمین کی بڑی تعداد سکھر نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے پہنچ گئی۔ مظاہرین نے سی ای او کے حق میں نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ’’سیپکو چیف اعجاز چنہ کو بلیک میل کرنا بند کیا جائے‘‘ اور ’’ان کے خلاف کرپشن کی خبریں بند کی جائیں‘‘۔احتجاج میں چیف انجنیئر آپریشن عبدالغنی شیخ، ایگزیکٹو انجنیئر ارشاد بلوچ، ایس ای آپریشن شکارپور صابر بگٹی اور ایس ای آپریشن دادو مظفر کھاوڑ سمیت دیگر افسران کو بھی بلایا گیا۔ مزید برآں سیپکو یونین کے رہنماؤں عقیل جونیجو اور شجاع گھمرو سمیت دیگر ملازمین کو بھی مبینہ طور پر زبردستی احتجاج میں شامل کیا گیا۔
احتجاج کے دوران ایک صحافی کے سوال پر بعض ملازمین نے اعتراف کیا کہ انہیں سی ای او کی جانب سے پیغام دے کر احتجاج میں شرکت کی ہدایت کی گئی۔ ایک افسر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ احتجاج کے باعث دفاتر اور فیلڈ میں کام متاثر ہوا اور لاکھوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔
ذرائع کے مطابق سی ای او اعجاز چنہ نے صحافی ملوک بلوچ کے خلاف کشمور، ٹھارو شاہ، گھوٹکی اور کندھرا میں مقدمات درج کروائے۔ ایک افسر نے سوال کے جواب میں مقدمات کے اندراج کا اعتراف کیا، تاہم جب عدالتی فیصلوں کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیا گیا کہ عدالت نے مقدمات کو جھوٹا قرار دیا ہے یا نہیں، اس بارے میں انہیں علم نہیں۔
سکھر نیشنل پریس کلب کے عہدیداران اور صحافی ملوک بلوچ نے سی ای او سیپکو کو کھلا مناظرہ کرنے کا چیلنج دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سی ای او کرپشن میں ملوث نہیں اور انہوں نے جھوٹے مقدمات درج نہیں کروائے تو کھلے عام مناظرہ کریں، بصورت دیگر صحافت چھوڑنے کا اعلان کریں گے۔ایک افسر نے صحافیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پریس کلب کی جانب سے دیے گئے مناظرے کے چیلنج سے سی ای او کو آگاہ کر کے جواب دیں گے۔سکھر نیشنل پریس کلب نے وفاقی حکومت اور پاور ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدار انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور اگر کسی قسم کی بدعنوانی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری ادارے کے افسران اور ملازمین کا دفاتر اور فیلڈ چھوڑ کر احتجاج کرنا نہ صرف عوامی مفاد کے خلاف ہے بلکہ بجلی کی فراہمی جیسے حساس شعبے میں یہ اقدام سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے اور آیا شفاف تحقیقات کا مطالبہ پورا کیا جاتا ہے یا نہیں۔
