گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
امریکی حکومت کے پاس جمع کرائی گئی ریگولیٹری فائلنگ کے مطابق آئندہ تین برسوں کے دوران الفابیٹ کی جانب سے سندر پچائی کو تقریباً 69 کروڑ 20 لاکھ ڈالر معاوضہ ادا کیا جائے گا جو پاکستانی کرنسی میں ایک کھرب 92 ارب روپے سے زائد بنتا ہے۔
امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق اس معاوضے کا بڑا حصہ کمپنی کی کارکردگی سے منسلک ہے، یعنی اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ تین برسوں میں الفابیٹ کے مختلف منصوبے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیکج میں بڑی رقم الفابیٹ کی ذیلی کمپنیوں کی کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر خودکار گاڑیوں پر کام کرنے والی کمپنی Waymo کی قدر میں اضافہ ہوا تو سندر پچائی کو حصص کی صورت میں تقریباً 26 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں۔
اسی طرح ڈرون ڈیلیوری کمپنی Wing کی بہتر کارکردگی کی صورت میں انہیں مزید 9 کروڑ ڈالر تک ملنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ الفابیٹ کی جانب سے تقریباً 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے اسٹاک بھی دیے جائیں گے جبکہ مزید 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اس شرط پر ملیں گے کہ وہ آئندہ تین برسوں تک کمپنی کے ساتھ وابستہ رہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے پیکج کے باوجود سندر پچائی کی بنیادی سالانہ تنخواہ صرف 20 لاکھ ڈالر ہے جو 2020 سے تبدیل نہیں ہوئی۔
سندر پچائی نے 2004 میں گوگل میں شمولیت اختیار کی تھی اور بعد ازاں گوگل کروم اور اینڈرائیڈ جیسے اہم منصوبوں کی قیادت کی۔ 2015 میں انہیں گوگل کا سی ای او بنایا گیا جبکہ 2019 میں وہ الفابیٹ کے سربراہ بن گئے۔
سندر پچائی کو آئندہ 3 برس میں 69 کروڑ ڈالر سے زائد معاوضہ ملنے کا امکان
