سپریم کورٹ آف پاکستان نے فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ اور اٹارنی جنرل کی جانب سے بانی پی ٹی آئی، عمران خان کے بچوں سے ٹیلی فونک رابطے اور علاج کی سہولیات کی یقین دہانی کے بعد جیل میں سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا اور عمران خان کی جانب سے دائر تین فوجداری درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 12 فروری کی سماعت کا 7 صفحات پر مشتمل تفصیلی حکم نامہ جاری کیا۔ تحریری حکم نامے کے مطابق یہ درخواستیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دائر شکایت سے جنم لینے والے فوجداری مقدمے کے عبوری اور طریقہ کار سے متعلق احکامات کے خلاف تھیں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمہ مکمل کر کے 5 اگست 2023 کو حتمی فیصلہ سنا دیا ہے، لہٰذا پہلی دو درخواستیں عبوری احکامات کے خلاف غیر مؤثر ہیں۔ عدالت نے گزشتہ رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے سنٹرل جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کو تازہ رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی اور بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا تاکہ وہ ذاتی طور پر ملاقات کر کے الگ رپورٹ پیش کریں۔
رپورٹس میں عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کی رہائش، خوراک، سیل کی حالت، معمول کے طبی معائنے اور سکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش اور ہم آہنگ ہیں۔ عدالتی معاون کی رپورٹ میں عمران خان نے سہولیات اور خوراک پر اطمینان کا اظہار کیا اور قید کی فطری حدود کو تسلیم کیا، تاہم ان کی بینائی کی بگڑتی ہوئی حالت پر سنگین تشویش ظاہر کی گئی۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی بھی ریکارڈ کی کہ قانون کے مطابق فوری اقدامات کیے جائیں گے اور ماہر امراض چشم پر مشتمل ٹیم 16 فروری 2026 سے پہلے عمران خان کا طبی معائنہ کرے گی۔
حکم نامے کے بعد سپریم کورٹ نے عمران خان کی جانب سے دائر تمام فوجداری درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دے کر غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔
سپریم کورٹ کا عمران خان کی جیل سہولیات پر اطمینان کا اظہار
