Baaghi TV

تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

انسان کی اصل پہچان اس کی سوچ سے بنتی ہے۔
نہ عمر اس کا تعارف ہے، نہ لباس، نہ ڈگری اور نہ ہی ظاہری کامیابیاں۔ اصل پہچان وہ زاویۂ نظر ہے جس سے وہ زندگی، انسان اور مسائل کو دیکھتا ہے۔ یہ زاویہ یکایک پیدا نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ تشکیل پاتا ہے، اور اس کی بنیاد عموماً نوجوانی میں رکھی جاتی ہے۔ اگر یہی بنیاد کمزور ہو تو بعد کی ساری عمارت بھی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔
آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، اس کا سب سے بڑا بحران نہ تو معاشی ہے، نہ سیاسی اور نہ ہی محض اخلاقی۔ یہ بحران دراصل فکری ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جاننے کے ذرائع بے شمار ہیں، معلومات ہر لمحہ ہماری دسترس میں ہے، مگر اس کے باوجود سوچنے، ٹھہرنے اور غور کرنے کے مواقع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو سب کچھ سکھایا جا رہا ہے، سوائے سوچنے کے۔

تشکیلِ فکر کوئی فوری عمل نہیں۔ یہ نہ کسی نصاب کے ایک باب سے مکمل ہوتی ہے اور نہ کسی تقریر کے اختتام پر۔ یہ مطالعے، مشاہدے، سوال، تنقیدی نظر اور مسلسل غور و فکر کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی اور سماجی نظام انسان کو معلومات تو فراہم کرتا ہے، مگر فکر پیدا نہیں کرتا۔ ہم پڑھتے ہیں مگر سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کے لیے۔ ہم سیکھتے ہیں مگر جانچنے کے لیے نہیں، بلکہ دہرانے کے لیے۔

اسی مرحلے پر انسانی ذہن ایک خطرناک عادت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سوچنے کے بجائے ردِعمل دینا سیکھ لیتا ہے۔ نتیجتاً آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان ذہن، رائے تو رکھتا ہے مگر بنیاد کے بغیر۔ وہ فیصلے تو کرتا ہے مگر سوال کے بغیر۔ یہ فکری سطحیت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ رویہ ہے۔ ہمیں شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جلدی بولو، واضح مؤقف رکھو اور کسی قسم کے ابہام کو کمزوری نہ بننے دو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فکر کی اصل بنیاد ابہام ہی سے جنم لیتی ہے۔ سوچ وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں انسان کو مکمل یقین حاصل نہ ہو۔

یہاں ادب کا کردار غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ ادب انسان کو ٹھہراؤ عطا کرتا ہے۔ وہ ذہن کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر سوال کا فوری جواب ضروری نہیں اور ہر مسئلے کا حل ایک جملے میں ممکن نہیں۔ ادب ذہن کو وسعت دیتا ہے، برداشت سکھاتا ہے اور مختلف زاویوں سے سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ مگر جب ادب کو محض نصابی ضرورت بنا دیا جائے یا صرف ذوقی مشغلہ سمجھ لیا جائے تو وہ اپنی فکری تاثیر کھو دیتا ہے۔

آج کا انسانی ذہن رفتار کا اسیر بن چکا ہے۔ وہ گہرائی کے بجائے خلاصہ چاہتا ہے، فلسفے کے بجائے اقتباس اور استدلال کے بجائے نعرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے فیصلے تیز تو ہوتے ہیں، مگر پختہ نہیں۔ ہم جلد مان لیتے ہیں اور جلد رد بھی کر دیتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ ہم نے جو قبول کیا یا جسے مسترد کیا، اس کی فکری بنیاد کیا تھی۔
تشکیلِ فکر کا بحران دراصل اسی عدم توازن کا نام ہے۔ یعنی ذہن میں مواد تو بہت ہو، مگر ترتیب نہ ہو۔ الفاظ ہوں، مگر مفہوم نہ ہو۔ علم ہو، مگر حکمت نہ ہو۔ یہ بحران فرد کی ذات سے شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ پورے سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ جب ذہن تربیت یافتہ نہ ہو تو اختلاف بدتمیزی بن جاتا ہے، تنقید نفرت میں بدل جاتی ہے اور مکالمہ شور کا روپ دھار لیتا ہے۔
ہم اختلاف اس لیے برداشت نہیں کر پاتے کہ ہم نے سوچ کو وسعت دینا نہیں سیکھا۔ ہم سوال سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ہمیں سوال کرنا سکھایا ہی نہیں گیا۔ حالانکہ سوال ذہن کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو ذہن سوال کرنا چھوڑ دے، وہ یا تو مطمئن نہیں بلکہ مقلد بن جاتا ہے۔

یہاں ادب ایک مرتبہ پھر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ادب انسان کو دوسرا زاویہ دکھاتا ہے۔ وہ اسے اپنے سچ کے ساتھ دوسروں کے سچ کو بھی سننے کی تربیت دیتا ہے۔ تشکیلِ فکر کا مطلب کسی خاص نظریے کو اپنانا نہیں بلکہ ذہن کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ نظریات کو پرکھ سکے، تول سکے اور پھر شعوری طور پر کسی نتیجے تک پہنچے۔آج ہمیں ایسے انسان درکار ہیں جو صرف بولنا نہ جانتے ہوں بلکہ سوچنا بھی جانتے ہوں۔ جو اختلاف کریں تو فہم کے ساتھ، اور مانیں یا رد کریں تو دلیل کے ساتھ۔ یہ صلاحیتیں اچانک پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ مطالعے، ادب سے رشتے، سوال سے دوستی اور خاموش غور و فکر کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں۔

اگر نوجوانی میں ذہن کی تشکیل نہ ہو تو انسان عمر بھر دوسروں کی سوچ کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ وہ خود فیصلے کرنے کے بجائے مستعار خیالات پر زندگی گزارتا ہے۔ اور یہی اصل غلامی ہے۔ یہ غلامی زبان کی نہیں بلکہ ذہن کی ہوتی ہے۔تشکیلِ فکر کا بحران درحقیقت انسان کے آزاد ہونے کا بحران ہے۔ آزاد بولنے کا نہیں، آزاد سوچنے کا۔ اگر ہم نے اپنے ذہن کو سوچنے کی تربیت نہ دی تو باقی ساری ترقی محض ظاہری ہوگی۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں، ذہنوں سے بنتی ہیں۔ اور ذہن تب بنتا ہے، جب اسے سوچنے دیا جائے

More posts