Baaghi TV

طالبان کی جانب سے داعش کیخلاف کاروائیوں کے جھوٹے دعوے بے نقاب

طالبان کی جانب سے داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کے دعوے یَکہ خاجی، فاریاب، افغانستان کے واقعات سے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

شفیق اللہ المعروف قاری حکمت کی قیادت میں ایک فعال داعش مرکز جی ڈی آئی (GDI) کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے، جہاں ہر وقت 20 سے 30 جنگجو موجود رہتے ہیں۔ عید کے اجتماع کے دوران داعش خراسان کے سینئر رہنما، سیف البحر المعروف شیخ مقبول اور ابو بکر العراقی المعروف ابو سعد العراقی بھی وہاں موجود تھے۔فاریاب میں داعش کے اس اڈے نے منظم گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

قاری حکمت کے زیرِ انتظام کیمپ کنڑ، نورستان اور ننگرہار سے منتقل کیے گئے دہشت گردوں کی افغانستان کے اندرونی علاقوں تک نقل و حرکت میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔اس نیٹ ورک سے منسلک ناموں میں معاویہ ابو سعد ازبکی، شاہ زور خیری، اور حاجی جان سید المعروف مومن شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت بھی اسی نیٹ ورک کے ذریعے ہو رہی ہے۔ طالبان داعش کا خاتمہ نہیں کر رہے بلکہ اسے منظم اور پناہ فراہم کر رہے ہیں۔

فاریاب میں عید کے اجتماع میں اعلیٰ درجے کے دہشت گرد، عمر الخراسانی، لقمان الخراسانی، محمد ابو حمزہ ترکستانی، اور ابو یاسر بھی شریک تھے۔یہ کیمپ مستقل طور پر 20 سے 30 جنگجوؤں کی میزبانی کرتا ہے اور طالبان کی سرپرستی میں ایک لاجسٹک اور رابطہ مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ جب داعش کے کمانڈر جی ڈی آئی کی نگرانی میں کھلے عام سرگرم ہوں تو طالبان کا بیانیہ خود بخود بے اثر ہو جاتا ہے۔حقیقت واضح ہے؛ افغانستان کو علاقائی اور عالمی دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

More posts