سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف جاری آپریشن “غضبِ حق” کے تحت مؤثر اور ٹارگٹڈ فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے وزیرِ ہائر ایجوکیشن ندا محمد ندیم ہلاک ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق فضائی حملہ افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک میں کیا گیا، جو پاکستان کے شہر چمن کے ساتھ ملحق ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ مقام پر دہشت گرد عناصر کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات تھیں، جس کے بعد انتہائی درستگی کے ساتھ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
صوبہ ننگر ہار میں دہشت گردوں کے ایک بڑے ایمونیشن ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، جو مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ڈپو میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ذخیرہ تھا، جو پاکستان کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔فضائی حملوں کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے جبکہ متعدد دیگر ٹھکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں،سکیورٹی ذرائع کے مطابق “غضبِ حق” کے تحت کارروائیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور مزید اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے نگرانی اور انٹیلی جنس آپریشنز جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیاں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔
