Baaghi TV

تقسیم کے زخم،از قلم: طوبٰی خان

سرحد کی کھینچی ہوئی لکیر پر
کچھ خواب بکھر گئے تھے
کچھ آنگن ویران ہوئے
اور کچھ راستے سنسان!
وہ ہجرت کا موسم،
گاڑی کے ڈبے میں چھپی سسکیاں،
اور مٹی کی وہ خوشبو
جو آخری بار سانسوں میں اتاری گئی تھی۔
زمانے گزر گئے،
برسوں کی گرد جم گئی
نقشوں کے کاغذی ورق پر،
مگر سینے میں دبا وہ درد
آج بھی تازہ ہے!
جسم تو سرحد کے اِس پار آ گئے،
پر روحیں
آج بھی اُس پار کے پرانے مکان کی
چوکھٹ پر بیٹھی
کسی مانوس آہٹ کی منتظر ہیں!

More posts