Baaghi TV

تہران جنگ کے سائے میں،سنسان سڑکیں، بمباری کا خوف،ایرانی عوام کے متضاد جذبات

ایران کا دارالحکومت ان دنوں ایک غیر معمولی اور خوفناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ شہر کی سڑکیں سنسان پڑی ہیں اور معمولات زندگی تقریباً مفلوج ہو چکے ہیں۔ شہریوں کے مطابق شہر اس وقت کسی “بھوتوں کے شہر” کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں خاموشی صرف اس وقت ٹوٹتی ہے جب آسمان سے بموں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔

ایک 30 سالہ تہران کے رہائشی نے عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ“یہ شہر اب کسی ویران بستی جیسا لگتا ہے۔ لوگ گھروں سے نہیں نکل رہے۔ اگر کبھی کوئی سڑک پر نظر آ جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی فلم کا منظر ہو۔”انہوں نے بتایا کہ شدید فضائی حملوں کے چھٹے دن بھی شہر میں خوف اور غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔“ابتدا میں لوگ شدید خوف میں تھے، لیکن کچھ لوگ اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے جنگی طیاروں کو دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی فلم دیکھ رہے ہوں۔”

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سے ایران کے مختلف اہداف پر مشترکہ فضائی حملے شروع کیے، جس کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں کی گئیں اور یوں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔اس جنگ نے ایرانی معاشرے کے اندر پہلے سے موجود سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ایک طرف وہ ایرانی ہیں جو طویل عرصے سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سخت گیر نظام کے خاتمے کی خواہش رکھتے تھے۔ ان لوگوں کے لیے موجودہ حالات امید کی کرن بھی بن گئے ہیں۔دوسری طرف حکومت کے حامی ہیں جو خامنہ ای کی وفات کے بعد سوگ کی فضا میں ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ملک کے سیاسی مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بہت سے ایرانی شہری اس جنگ کے بارے میں شدید مخمصے کا شکار ہیں۔ وہ حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ضرور تھے، لیکن یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ تبدیلی بیرونی فوجی مداخلت کے ذریعے آئے۔ایک شہری نے بتایا “ہم پر دشمن حملہ کر رہا ہے، بمباری ہو رہی ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم مکمل غصے میں بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ جو صورتحال پہلے تھی وہ ذہنی طور پر اس سے بھی زیادہ مشکل تھی۔”انہوں نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان احتجاجوں کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے اور ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہفتے سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔جنوبی ایرانی شہر میناب میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 168 بچے اور 14 اساتذہ ہلاک ہو گئے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس واقعے کی فوری، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ“اندھا دھند حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”

تہران میں گیشا اسٹریٹ پر واقع ایک بدنام زمانہ حراستی مرکز، جہاں اخلاقی پولیس کا دفتر بھی تھا، حالیہ فضائی حملے میں تباہ ہو گیا۔ایک سابق ایرانی طالب علم، جو اس مرکز میں قید رہ چکا تھا، نے کہا “اس عمارت میں ہزاروں لوگوں کو گرفتار اور ذلیل کیا گیا۔ مجھے امید ہے کہ بمباری میں کوئی بے گناہ شخص زخمی نہیں ہوا ہوگا، لیکن مجھے خوشی بھی ہے کہ وہ عمارت اب موجود نہیں۔”ایک موسیقار، جو وہاں قید رہ چکا تھا، نے کہا کہ اس عمارت کے تباہ ہونے پر اس کے جذبات متضاد ہیں۔

ایران میں حکومت نے 28 فروری سے انٹرنیٹ کو تقریباً مکمل طور پر محدود کر دیا ہے۔ نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک معمول کے صرف ایک فیصد تک رہ گئی ہے جس کے باعث تقریباً 9 کروڑ افراد عالمی خبروں اور سوشل میڈیا سے کٹ چکے ہیں۔شہر شیراز کے ایک رہائشی نے بتایا “ہمارے پاس کوئی خبر نہیں ہوتی۔ فون بھی مشکل سے ملتا ہے۔ کوئی سائرن نہیں ہوتا جو حملے سے پہلے خبردار کرے۔ ہمیں بس آسمان میں کچھ آتا دکھائی دیتا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ وہ ہمارا ہے یا دشمن کا۔”

تہران میں ایک خاتون نے بتایا کہ شہر کی دکانوں اور بازاروں میں عجیب صورتحال ہے جہاں خوف کے باوجود زندگی کسی حد تک جاری ہے۔انہوں نے کہا “پہلے دن اشیائے خورونوش بہت مہنگی تھیں اور لوگ ذخیرہ نہیں کر سکتے تھے، لیکن اگلے دن بازار دوبارہ بھر گئے، بیکریاں کھلی رہیں اور روٹی بن رہی تھی۔”جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات، مسلسل بمباری، مواصلاتی بندش اور غیر یقینی حالات کے درمیان ایرانی عوام ایک نئی حقیقت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ایک تہران کے شہری سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں تو اس نے مختصر جواب دیا “میں ابھی زندہ ہوں۔”

More posts