شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں دہشتگردی کا سنگین واقعہ پیش آیا، جہاں گاؤں حسوخیل میں قائم الفاتح پبلک ہائی اسکول کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق حملے کے نتیجے میں اسکول کے تین عملے کے افراد زخمی ہو گئے، جن میں اسکول کے پرنسپل بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے اسکول کی عمارت کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون کے ذریعے دھماکہ خیز مواد گرایا، جس سے اسکول کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا اور خوف و ہراس پھیل گیا۔واقعے کے فوراً بعد زخمی افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ریسکیو 1122 کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی، مگر اسی دوران حملہ آوروں نے ایک بار پھر ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ دوسرے حملے کے نتیجے میں متعدد ریسکیو اہلکار بھی زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں اور ریسکیو عملے کو نشانہ بنانا دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے، جس کا مقصد علاقے میں خوف پھیلانا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں نے جرگہ ممبر کو اغواء کر لیا
جرگہ کے دیگر ممبران کا عسکریت پسندوں کے خلاف مقامی مزاحمت شروع کرنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق وادی تیراہ میں 24 رکنی جرگہ کے ایک ممبر ملک اسلام غنی کو اغواء کرنے کے بعد جرگہ کے دیگر ممبران نےعسکریت پسندوں کے خلاف مقامی مزاحمت شروع کرنے پر مشاورت شروع کردی اور اس حوالے سےجرگہ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،جرگہ کے ایک ممبر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہشت گردوں کو واضح پیغام بھیجا ہے کہ اگر جرگہ ممبر کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچایا گیا تو پھر اہل علاقہ ان کے خلاف اسلحہ اٹھاکر نہ صرف بدلہ لیں گے بلکہ علاقہ سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے اور نکالنے کیلئے سکیورٹی فورسز اور پولیس کا بھی ساتھ دینگے۔
سنٹرل کرم :سکیورٹی فورسز کی کارروائی ، کالعدم تنظیم کے انتہائی مطلوب سمیت 11 دہشتگرد ہلاک؛
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سنٹرل کرم کے علاقہ مارغن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے کالعدم ٹی ٹی پی کاظم گروپ کے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا،مصدقہ اطلاعات کے مطابق، مقابلے کے دوران ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
