بین الاقوامی سیاحتی حلقوں میں حالیہ دنوں بھارتی سیاحوں کے مبینہ نامناسب رویّے سے متعلق خبروں نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
تھائی لینڈ کے مشہور سیاحتی مقام “یونا بیچ کلب” میں بھارتی سیاحوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ماضی میں پیش آنے والے چند ناخوشگوار واقعات کے بعد کیا گیا۔یونا بیچ کلب، جو اپنی پرتعیش سہولیات اور بین الاقوامی سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث معروف ہے، کی انتظامیہ کے مطابق بعض مواقع پربھارتی سیاحوں کا رویّہ غیر مہذب اور کلب کے ضابطہ اخلاق کے خلاف تھا، اس فیصلے کا مقصد تمام مہمانوں کے لیے محفوظ اور پُرسکون ماحول کو یقینی بنانا ہے۔واضح رہے کہ تھائی لینڈ کی سیاحتی صنعت بھارتی سیاحوں پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں بھارتی شہری وہاں کا رخ کرتے ہیں۔
تھائی لینڈ کے معروف اور سیاحوں میں مقبول یونا بیچ کلب (Yona Beach Club) میں بھارتی سیاحوں کے داخلے سے مبینہ انکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ بھارتی سیاحوں کے ایک گروپ نے کلب انتظامیہ پر نسلی امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ماضی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے باعث بھارتی شہریوں کے داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ گوا سے تعلق رکھنے والے موسیقار جوناس مونٹیرو (Jonas Monteiro) نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو تصدیق شدہ بکنگ اور درست ٹکٹ ہونے کے باوجود کلب میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔جوناس مونٹیرو کے مطابق وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ مقررہ وقت پر کلب پہنچے اور ان کے پاس باقاعدہ تصدیق شدہ ٹکٹ موجود تھے، تاہم داخلی دروازے پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔
سب سے سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ گروپ کے ارکان نے مبینہ طور پر کلب کے عملے کو یہ کہتے ہوئے سنا،“کسی بھارتی کو اندر مت آنے دو۔”
ماضی میں چند بھارتی سیاحوں کے ہنگامہ آرائی اور غیر مہذب رویے کے واقعات کے بعد کلب انتظامیہ نے سخت اقدامات کیے،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سیاحتی مقامات پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کیے جاتے ہیں ،
