اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد آج ہزاروں فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں باجماعت نماز جمعہ ادا کی۔ پابندی کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں نمازی قبلہ اول پہنچے اور روح پرور اجتماع دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں سکیورٹی خدشات کو وجہ بنا کر اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، جس کے باعث متعدد فلسطینیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا گیا تھا۔ تاہم پابندی ہٹنے کے بعد آج صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی اور نمازیوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئی۔
نماز جمعہ کے موقع پر مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ فلسطینی شہریوں نے پرامن انداز میں عبادات ادا کیں۔ اس موقع پر لوگوں نے نہ صرف نماز ادا کی بلکہ قبلہ اول سے اپنی عقیدت کا اظہار بھی کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں سے آنے والے فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کیا۔ کئی افراد صبح سویرے ہی مسجد کے دروازوں پر پہنچ گئے تھے تاکہ وہ اس مقدس مقام پر نماز جمعہ کی سعادت حاصل کر سکیں۔
ہے، اور یہاں عبادت کی آزادی ایک حساس اور اہم معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فلسطینی عوام اس مقام سے گہری مذہبی وابستگی رکھتے ہیں۔
پابندی ختم ہونے کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی
