ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر مضر صحت حلوہ کھانے سے تین کمسن بچے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بچے ایک ایسے مقام پر موجود تھے جہاں جنگل کے قریب حلوہ رکھا ہوا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچوں نے وہی حلوہ کھا لیا جس کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی۔ متاثرہ خاندان پہاڑی علاقے میں مزدوری کے سلسلے میں مقیم تھا، جہاں سہولیات کی کمی کے باعث بروقت طبی امداد بھی ممکن نہ ہو سکی۔
واقعے کے بعد بچوں کو بچانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حلوہ وہاں کیسے پہنچا اور آیا اس میں کوئی زہریلا مادہ شامل تھا یا نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مضر صحت خوراک کے باعث بچوں کی اموات کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس نے خوراک کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو غیر محفوظ یا نامعلوم جگہوں پر رکھی اشیاء کھانے سے روکیں، جبکہ حکام کو بھی چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معمولی سی لاپرواہی بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط اور بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
ڈی آئی خان میں زہریلا حلوہ کھانے سے 3 بچے جاں بحق
