Baaghi TV

مذاکرات کے دوران تہران سے تین طیاروں کی نور خان ایئربیس پر آمد

اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان حساس مذاکرات کے دوران ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تہران سے آنے والے کم از کم تین طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر اترے ہیں۔ یہ وہی ایئربیس ہے جہاں حالیہ مذاکراتی عمل میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد و رفت رپورٹ کی گئی ہے۔

الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ ذرائع کے مطابق یہ طیارے ایرانی کارگو ایئرلائن پویہ ایئر کے ہیں، جسے ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ایک ادارہ سمجھا جاتا ہے اور یہ مبینہ طور پر قدس فورس اور ایرانی فضائی یونٹس کے لاجسٹک آپریشنز میں معاونت کرتی ہے۔اطلاعات کے مطابق پویہ ایئر کے طیارے تہران کے مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے، جس پر حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم ان طیاروں کی پاکستان آمد کا مقصد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا۔

پاکستانی حکام یا مذاکراتی ٹیموں کی جانب سے بھی تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا کہ ان طیاروں میں کون سوار تھا یا ان کی آمد کا اصل مقصد کیا ہے۔ ایران کی جانب سے پہلے ہی تقریباً 70 رکنی وفد اسلام آباد میں موجود ہے، تاہم ایرانی ذرائع اشارہ کر رہے تھے کہ مذاکرات کے "تفصیلی مرحلے” میں مزید ماہرین کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ان مذاکرات میں ایران میں قید امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ بھی اٹھا سکتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ نور خان ایئربیس پر طیاروں کی اچانک آمد کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

More posts