Baaghi TV

ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا مستقبل اور ماضی میں جانا تحریر اصغر علی                                    

               

ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آج کی دنیا  میں جب سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے ممکن ہے یا نہیں اسی موضوع پر آج کا کالم ہے
انسان کی خواہشات لامحدود ہیں سائنس میں آج اتنی ترقی کرنے کے بعد انسان وہ سب کچھ کرنے کی خواہش رکھتا ہے جو آج سے سو سال پہلے کا انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن آج بھی سائنس کی بے انتہا ترقی کے باوجود بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس میں انسان بے بس نظر آتا ہے اور بہت سے ایسے سوالات انسان کے سامنے آتے ہیں کہ جن کے جوابات ابھی تک اسے نہیں مل پائے انہی سوالوں میں سے ایک سوال ٹائم ٹریولرز یا وقت میں سفر کرنا ہے جس کا مطلب آپ اپنے مستقبل سے ماضی میں یا ماضی سے مستقبل میں جا سکیں یہ سب جانتے ہیں کہ گیا وقت کبھی ہاتھ میں واپس نہیں آتا ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آخر ہے کیا اس کی اسان مثال لی جائے ہم سب وقت میں آگے کی طرف سفر کر رہے ہیں اور ہر سال ہماری سالگرہ منائی جاتی ہے اور ہماری زندگی میں ایک سال مزید شامل ہو جاتا ہے لیکن ہم سب کی کی رفتار ایک جیسی ہوتی ہے ہم ایک سیکنڈ میں ایک سیکنڈ ہی گزارتے ہیں کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم وقت میں تیزی سے سفر کرتے ہوئے آگے نکل جائیں یا وقت سے پیچھے رہ جائیں اس پر کافی سائنسدانوں نے اپنی تھیوریز پیش کی  ہیں کچھ کا خیال ہے یہ ممکن ہے اور کچھ کا خیال ہے یہ محض ایک کہانی ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں سب سے مشہور تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو سمجھا جاتا ہے دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار روشنی کی ہوتی ہے اور کوئی بھی روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتا ایک اور مثال میں اگر اس کو سمجھیں تو وہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر ہم ایک ٹرین کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیں سامنے والا انسان جو ہمارے سامنے بیٹھا ہے وہ اور جتنے بھی لوگ اس ڈبے میں یا اس کیبن میں بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں وہ ساکن نظر آئیں گے کیونکہ وہ ہمارے لئے ساکن ہے اس کے برعکس اگر کوئی باہر سے ٹرین کو دیکھتا ہے تو اس کو وہ سب انسان حرکت کرتے ہوئے نظر آئیں گے جو ٹرین میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے ہر انسان کا وقت اس کے اپنے حساب سے گزرتا ہے ہے ایک تو یہ تھیوری ہے آئن سٹائن کی اور اس کا ایک اور پہلو کچھ اس طرح ہے  فرض کریں کوئی بھی شخص ایک سپیس شپ میں روشنی کی رفتار سے سفر کر رہا ہے ہے تو کچھ سالوں بعد تھیوری آف ریلیٹیویٹی یا آئنسٹائن کے مطابق وہ اپنے ہم  عمر جڑواں بھائی جو زمین پر ہے اس سے چھوٹا رہ جائے گا کیوں کہ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کی وجہ سے اس کا وقت آہستہ گزر رہا ہے اس کو ٹائم ڈائیلیشن کہتے ہیں یا آپ کو ایک بات اور بتاتے چلیں کہ مشہور سائنسدان آئنسٹائن کے مطابق وقت چو تھی ڈائمنشن ہیں جبکہ باقی تین ڈائمینشن میں لمبائی چوڑائی اور اونچائی شامل ہیں یہ تینوں ٹائم نشنز ہمیں لوکیشن بتاتی ہے اور چوتھی ڈائمنشن ہمیں ڈائریکشن بتاتی ہے اور یہ صرف آگے کی طرف جاتی ہے یعنی وقت ہمیشہ آگے کی طرف سفر کرتا ہے کبھی واپس پیچھے کی طرف نہیں آتا وقت میں سفر کرنے کا ایک طریقہ وارم ہول یعنی ہم ایک ایک ہول سے داخل ہوں اور اس کا دوسرا سرا آج سے سو سال سال پیچھے یا سو سال آگے ہوگا لیکن یہ سب چیزیں میں اور اور فلموں میں دکھائی جاتی ہے کیونکہ حقیقت میں اس طرح کے ہول نہ آج تک دریافت ہوئے ہیں اور نہ ہی کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتہ ہے تو ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں جتنی بھی باتیں ہیں وہ محض کہانیاں اور افسانے ہیں ہیں کسی بھی سائنسدان نے آج تک کیا کسی بھی انسان نے آج تک وقت پر سفر نہیں کیا یعنی ٹائم ٹریول نہیں کیا اور یہاں پر ٹائم ٹریول کے بارے میں کافی سارے لوگوں نے کافی اعتراضات بھی کئے ہیں جن میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی انسان ٹائم ٹریول کرکے اپنے ماضی میں جاتا ہے تو کیا وہ اپنی ماضی میں کی ہوئی غلطیوں کو سدھار سکتا ہے  یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماضی میں جائیں اور اپنے دادا یا پر دادا کو قتل کردے اب دادا یا پر دادا ہی نہیں رہے تو اس شخص کا پیدا ہونا کیسے ممکن ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں بہت سارے لوگوں نے اپنے بہت ساری جھوٹی کہانیاں انٹرنیٹ پر ڈالی ہوئی ہیں جس میں  ایک کہانی ہے کہ ایک انسان نے سن دو ہزار سے سن دوہزار 36 میں گیا اور  واپس آیا کچھ دنوں تک وہ لوگوں کے میسجز اور پیغامات کا جواب دیتا رہا اور بعد میں وہ غائب ہو گیا غرض ٹائم ٹریول کے بارے میں آج تک جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں ان میں آج تک کوئی بھی اتھنٹک نہیں ہے لوگ ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں سب سے زیادہ اتھنٹک تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو ہی سمجھتے ہیں            

Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
for more info visit his twitter 

        account @ali_ajkpti

More posts