ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز اور پیٹرول پمپ ڈیلرز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ہڑتال اور بندش کی دھمکیاں دے دی ہیں، جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل ٹرک ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جبکہ کرایوں میں اسی تناسب سے اضافہ ممکن نہیں رہا، جس کے باعث کاروبار چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کی پیشکش کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دعووں تک محدود ہے اور عملی طور پر ٹرانسپورٹرز کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی نہ کی گئی تو ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ بند کر دی جائے گی، جس سے سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پیٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بھی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیلرز کے منافع میں اضافہ نہ کیا گیا تو وہ ایک بار پھر پیٹرول پمپس بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ چیئرمین ایسوسی ایشن کے مطابق موجودہ مارجن انتہائی کم ہے جس میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ ڈیلرز کو مناسب منافع مل سکے، بصورت دیگر ملک میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
ادھر حکومت نے پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد شفافیت بڑھانا اور بے ضابطگیوں کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر بھی ڈیلرز کی جانب سے تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹرانسپورٹرز اور پمپ ڈیلرز نے واقعی ہڑتال کی تو اس کے اثرات براہ راست عام عوام پر پڑیں گے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی
