Baaghi TV

سفرنامہ: گجرات آوارگی،تحریر:زین سلیم جاجووال

صبح کی سپید روشنی ابھی افق کے کناروں پر دھیرے دھیرے بکھر رہی تھی۔ رات کی خنکی نے فضا میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہوئی تھی اور پرندوں کی پہلی چہچہاہٹ ایک نئے دن کی نوید سنا رہی تھی۔ ناشتے سے فراغت کے بعد میرپور روانگی کی تیاری کر رہا تھا۔ سفر کا سامان تقریباً تیار تھا ذہن میں راستوں کے نقشے اور آنے والے دن کی منصوبہ بندی گردش کر رہی تھی کہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی نے ان خیالات کا تسلسل توڑ دیا۔
فون اٹھایا تو دوسری جانب ایک مانوس پُرخلوص اور باوقار آواز تھی۔ یہ آواز رائے فصیح اللہ جرال کی تھی۔ گجرات میں چند ایسی شخصیات ہیں جن کی محبت اور خلوص کی ایک آواز پر ہم گجرات دورے چلے آتے ہیں۔ ان ہی شخصیات میں فصیح اللہ جرال کا بھی شمار ہوتا ہے۔ کال اٹھائی خال احوال پوچھا اور فصیح بھائی کی طرف سے پیغام آیا کہ "آج گوشۂ نشاط جانے کا ارادہ ہے، آپ گجرات آ جائیں۔ احسان فیصل کنجائی بھی پہنچ رہے ہیں سب اکٹھے چلتے ہیں۔

یہ سنتے ہی میرپور کا پروگرام ذہن کے کسی گوشے میں دبک گیا۔ کتابی دوستوں کا بلاوا ہو تو پھر انکار کی گنجائش کہاں رہتی ہے۔ میں نے فوراً حامی بھر لی اور گجرات روانگی کی تیاری شروع کر دی۔
ضروری امور سے فراغت کے بعد سفر کا پہلا پڑاؤ دولت نگر تھا۔ یہاں توصیف بھائی سے ملاقات ہوئی توصیف بھائی اہل علم آدمی ہیں اور محکمہ پولیس میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ چند کتب ان کی نذر کیں اور اگلی منزل میری منتظر تھی۔

دولت نگر سے رخصت ہو کر رخ کتب خانہ شیرانی کا کیا۔ سہ پہر ڈھل رہی تھی اور گھڑی کی سوئیاں تقریباً چار بجنے کا اعلان کر رہی تھیں جب کتب خانہ شیرانی پہنچا تو احسان فیصل کنجائی اور رائے فصیح اللہ جرال پہلے ہی میرے انتظار میں تشریف فرما تھے۔ جولائی کی دوپہر اپنی پوری شدت کے ساتھ زمین پر آگ برسا رہی تھی۔ سورج کی تپش یوں محسوس ہوتی تھی جیسے آسمان سے انگارے برس رہے ہوں گرمی کی شدت ایسی کہ چیل اپنے انڈے چھوڑ گئی ہو۔ مگر کتب بینی کے شیدائیوں کے لیے کتب خانے ٹھنڈی چھاوں کی طرح ہوتے ہیں اور یہ ٹھنڈی چھاؤں المیر اور شیرانی میں محسوس کی جا سکتی ھے۔چنانچہ کچھ دیر کتب خانہ شیرانی کی علمی فضا میں بیٹھ کر گفتگو کا لطف لیا اور گرمی کی شدت کو بھی بھلا دیا۔
شام پانچ بجے ہم رائے فصیح اللہ جرال کے ہمراہ سو سے زائد کتب لیے جلالپور جٹاں کی جانب روانہ ہوئے۔ راستہ قہقہوں کی گونج اور ادبی گفتگو اور تاریخی تذکروں سے یوں آباد تھا کہ سفر کی مسافت کا احساس ہی نہ ہوا۔
جلالپور جٹاں میں ہمارا پہلا پڑاؤ بنت سلام گرلز کالج تھا جہاں شوکت صاحب کو کالج کے کتب خانہ کے لیے فصیج نے سو سے زائد کتب عطیہ کیں اور ہم نے اپنی اپنی تصنیف پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔۔
ہماری اگلی منزل جلالپور جٹاں تھی ایک ایسا قدیم قصبہ جس کی مٹی میں تاریخ کی خوشبو آج بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ سخنوروں کی سرزمین گجرات اپنے علمی، ادبی اور تہذیبی تشخص کے باعث ہمیشہ ممتاز رہی ہے، مگر اس کی شناخت صرف اہلِ قلم تک محدود نہیں۔ اس خطے کے چند قصبے ایسے بھی ہیں جو اپنے سینے میں صدیوں کی تہذیب اور تمدن کے نقوش محفوظ کیے ہوئے ہیں۔
ان قصبوں میں قصبہ کنجاہ اور جلالپور جٹاں شامل ہیں۔

شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے ہم جلالپور جٹاں کے معروف ادبی مرکز گوشۂ نشاط پہنچے۔ پروفیسر کلیم احسان بٹ صاحب نے حسبِ روایت نہایت محبت اور خلوص سے ہمارا استقبال کیا اور میری تازہ کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کی۔ کچھ دیر چائے کی پیالی کے ساتھ ادب تاریخ اور جلالپور جٹاں کی علمی روایت پر دل چسپ گفتگو ہوتی رہی۔ اس موقع پر بٹ صاحب نے جلالپور جٹاں کی مشہور خطایاں بھی ہماری تواضع میں پیش کیں جن کا ذائقہ مقامی ثقافت کی مٹھاس لیے ہوئے تھا۔
چند خوشگوار لمحات گزارنے کے بعد ہم نے کلیم صاحب سے اجازت چاہی اور عرض کیا کہ آج کا مقصد جلالپور جٹاں کی تاریخی گلیوں آثارِ قدیمہ اور اس شہر سے وابستہ علمی و ادبی شخصیات کے نقوش دیکھنا ہے۔ آج ہم فصیح جرال کی وساطت سے اس شہر کے کونے کونے کو دیکھنے آئیں ہیں۔ یوں ہم گوشہ نشاط کو خیر باد کہتے ہوئے تنگ گلیوں کی جانب پیدل روانہ ہوئے اور محلہ سادھو پہنچ گئے۔
محلہ سادھو کی خاموش گلیوں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کی دہلیز سے وابستہ یادیں آج بھی اہل ذوق کے حافظے میں تازہ ہیں

محلہ سادھو کی پُرسکون گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسا مکان بھی سامنے آیا جس نے بے اختیار قدم روک لیے۔ یہ غلام حسین گارڈ کا گھر تھا جو ممتاز ادیب اور محقق پروفیسر کلیم احسان بٹ کے ہمسائے رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام سا مکان دکھائی دیتا ہے مگر اس کی دیواروں سے وابستہ یادیں غیر معمولی ہیں۔ غلام حسین گارڈ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات پوشیدہ تھے جنہیں معروف قلم کار پروفیسر خالد ہمایوں نے ایک زمانے میں قومی ڈائجسٹ کے صفحات پر اس دلکشی سے رقم کیا کہ وہ محض سوانحی واقعات نہ رہے بلکہ ایک پورے عہد کی معاشرتی تصویر بن گئے۔
محلہ سادھو سے نکل کر جب قدم محلہ چمرنگی کی جانب بڑھے تو یوں محسوس ہوا جیسے شہر کی تاریخ ایک اور ورق الٹ رہی ہو۔ اس محلے کا نام محض ایک جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ اپنے اندر ایک قدیم صنعت کی بازگشت سموئے ہوئے ہے۔ کبھی یہاں چمڑے کو رنگنے کا کام بڑے پیمانے پر ہوتا تھا۔ رنگوں سے بھرے حوض محنت کشوں کی مصروف آوازیں اور دباغت کی مخصوص مہک اس بستی کی پہچان تھیں۔ وقت نے اگرچہ وہ منظر بدل دیے مگر محلے کا نام آج بھی اپنے ماضی کی گواہی دیتا ہے۔
اسی محلے میں معروف صحافی ملک لال خاں کا گھر بھی واقع ہے۔ ان کی رہائش گاہ کے سامنے سے گزرتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے اس خاموش مکان کی دیواریں بھی قلم کی حرمت صحافت کی جرأت اور گزرے ہوئے زمانوں کی کتنی ہی داستانیں اپنے سینے میں محفوظ کیے بیٹھی ہوں۔ ملک لال خاں ایک شاعر ادیب اور صحافی تھے ان کی یادوں صحافتی بصیرت اور زندگی کے نشیب و فراز کو المیر کے چشم و چراغ ندیم اللہ میر نے داستان لال کے عنوان سے نہایت دل نشیں انداز میں قلم بند کیا ہے۔

اسی دوران ہمیں معروف فوجی افسر، مؤرخ اور مصنف کرنل ایاز کی حویلی بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ حویلی اپنے اندر ماضی کی کئی داستانیں سموئے کھڑی ہے۔ کرنل ایاز نے عسکری خدمات کے ساتھ ساتھ تاریخ کے میدان میں بھی گراں قدر کام کیا اور ان کی شخصیت جلالپور جٹاں کی علمی و تاریخی شناخت کا ایک اہم حوالہ ہے۔
محلہ چمرنگی کی بند اور تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک روحانی سکون دل پر اترنے لگا۔ انہی پیچ در پیچ راستوں کے درمیان محلہ خیبر اور محلہ چمرنگی کی سرحد پر معروف روحانی بزرگ حضرت قاضی عبدالحق قریشی قادریؒ کا مزار واقع ہے۔ شہر کے شور و غوغا سے ذرا ہٹ کر یہ مقام آج بھی عقیدت مندوں کے لیے قلبی آسودگی اور روحانی طمانیت کا مرکز ہے۔ مزار کے احاطے میں قدم رکھتے ہی فضا کی خاموشی، درختوں کی سرسراہٹ اور زائرین کی مدھم دعائیں ایک ایسا منظر تشکیل دیتی ہیں جو دل کو دنیا کی ہنگامہ خیزی سے کاٹ کر کسی اور ہی عالم میں لے جاتا ہے۔
حضرت قاضی عبدالحق قریشی قادری حضرت قاضی عبدالحکیم قادری کے بھتیجے تھے اور اپنے تقوی علم اور روحانی فیض کے باعث لورے شہر میں بڑی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کے مریدِ خاص شیخ صدیق ظفر نے اپنے مرشد سے عقیدت کے اظہار کے طور پر ان کے نام سے عبدالحق کالج قائم کیا، جو آج بھی ان کی یاد اور علمی و روحانی وراثت کی ایک خوب صورت علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مزار سے رخصت ہوتے ہوئے یہی احساس غالب رہا کہ بعض شخصیات اپنے وصال کے بعد بھی اپنے کردار، فیض اور تربیت کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں، اور ان کے نقوش وقت کی گرد بھی مٹا نہیں پاتی۔
آگے بڑھتے ہوئے جلالپور کی اولین امام بارگاہ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس امام بارگاہ کو دیکھنے کی حسرت مہینوں سے تھے مگر میرے اصرار کے باوجود فصیح بھائی نے 10 محرم کو ہمیں امام بارگاہ کے خاضرین کی خدمت کا موقع نہ دیا۔ خیر محلہ امام بارگاہ ہمارے انتظار میں تھا پہلی نظر امام گاہ پر پڑی تو دلی سکون محسوس ہوا۔ یہ امام بارگاہ محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ ہجرت عقیدت اور تاریخ کا ایسا روشن استعارہ ہے جس کی بنیاد سری نگر کشمیر سے آنے والے کشمیری میر برادران نے رکھی۔ انہوں نے یہاں مسجد اور امام بارگاہ تعمیر کرکے اس بستی کو ایک نئی روحانی اور تہذیبی شناخت عطا کی۔ آج بھی ان عمارتوں کی خاموش دیواریں اپنے معماروں کی بصیرت، اخلاص اور دینی وابستگی کی گواہی دیتی ہیں۔
انہی کشمیری میر خاندان کے چشم و چراغ گجرات کے معروف کتاب دوست علم پرور شخصیت اور ادارۂ المیر کے روح رواں عارف علی میر کے پردادا عبداللہ میر نے بھی یہیں سکونت اختیار کی۔ روایت ہے کہ جب انہوں نے اس بلند ڈھیری کو اپنا مسکن بنایا تو اسی نسبت سے اس بستی کا نام محلہ خیبر پڑ گیا۔ وقت نے کئی موسم بدلے، نسلیں تبدیل ہوئیں اور گلیوں کی صورت بھی بدلتی رہی، مگر اس محلے کی روح آج بھی اپنی تہذیبی اور مذہبی شناخت کے ساتھ زندہ ہے۔

آج انہی گلیوں سے گزرتے ہوئے بار بار صدائے حسین کی گونج کانوں سے ٹکراتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ فضا صرف محرم کے دنوں میں نہیں، بلکہ پورا سال کربلا کے پیغام ایثار وفا اور حق گوئی کی خوشبو سے معطر رہتی ہو۔ سفر کی یہی کیفیت دل کو بار بار یہ احساس دلاتی ہے کہ بعض بستیاں اپنے مکینوں سے نہیں بلکہ اپنی تاریخ، اپنی روایت اور اپنے عقیدے سے پہچانی جاتی ہیں۔۔
قدیم گلیوں کا سفر جاری تھا۔ محلہ درہم سالہ، محلہ مرثایاں اور محلہ لوہاراں سے گزرتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے ہر محلہ اپنے نام میں صدیوں کی کوئی خاموش داستان سمیٹے ہوئے ہو۔ راستے میں پرانا تھانہ نظر آیا، جس کی خاموش دیواریں گزرے زمانوں کی گواہی دے رہی تھیں۔ آگے بڑھ کر حکیم صابر علی شاہ کا گھر دیکھا جہاں علم طب اور خدمت خلق کی خوشبو آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ اسی سفر میں معروف شاعر اور نغمہ نگار راجندر کرشن کے آبائی گھر کی زیارت بھی ہوئی۔ اس گھر کے سامنے ایک لمحہ ٹھہر کر یوں لگا جیسے تخلیق کی کوئی قدیم روشنی آج بھی ان گلیوں میں اپنا عکس بکھیر رہی ہو۔
راجندر کرشن برصغیر کے مشہور ترین فلمی نغمہ نگار تھے۔ راجندر کرشن کے آبائی گھر کے سامنے بھی حاضری کا موقع ملا۔ یہ وہی راجندر کرشن ہیں جنہوں نے تقسیمِ ہند کے بعد ممبئی کی فلمی دنیا میں اپنی شاعری اور نغمہ نگاری سے لازوال شہرت حاصل کی۔ ان کے قلم سے نکلے بے شمار گیت آج بھی موسیقی کے شائقین کی یادوں میں زندہ ہیں۔ ان کے آبائی گھر کے سامنے کھڑے ہو کر پہلی نظر ان کی بالکونی پر پڑی جس سے یہ احساس ہوا کہ واقعی ہی سامنے والے کھڑکی میں کوئی چاند کا مکھڑا رہتا ہو گا۔یہ وہی راجندر کرشن ھے جہنوں نے لکھا کہ میرے سامنے والی کھڑکی پہ اک چاند سا مکھڑا رہتا ھے۔

میں اور احسان فیصل کنجاہی گرمی اور مسلسل پیدل سفر کے باعث پسینے میں شرابور تھے مگر فصیح بھائی کے قدموں کی رفتار میں کوئی کمی نہ آئی۔ فصیح بھائی تمام داستان سناتے ہوئے آگے آگے چل رہے تھے جو ہر گلی، ہر محلے اور ہر تاریخی عمارت کے ساتھ جڑی ہوئی داستانیں اس انداز سے سنا رہے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم سفر نہیں کر رہے بلکہ تاریخ کے اوراق ایک ایک کرکے ہماری آنکھوں کے سامنے کھلتے جا رہے ہوں۔ ان کی زبانی سنی ہوئی ہر روایت اس بستی کے ماضی کو زندہ کر دیتی اور سفر محض راستوں کی پیمائش نہیں بلکہ یادوں تاریخ اور تہذیب کی بازیافت بنتا چلا گیا۔
راستے میں یونس سنیارہ کا قدیم گھر بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ عمارت محض ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ اپنے اندر تاریخ کا ایک باب سموئے ہوئے ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل 1947ء تک یہاں ایک بینک قائم رہا جہاں کبھی شہر کی تجارتی سرگرمیوں کی دھڑکن سنائی دیتی تھی۔ آج اس کے در و دیوار خاموش ہیں مگر ماضی کی بازگشت اب بھی ان میں محسوس ہوتی ہے۔
کچھ ہی فاصلے پر پرانا پھانسی گھاٹ بھی نظر آیا اس مقام پر ایک لمحے کو قدم خودبخود ٹھہر گئے۔ خاموش فضا میں یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے یہاں اپنے چند تلخ اور عبرت انگیز ابواب ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیے ہوں تاریخ کے بعض مقامات بولتے نہیں مگر ان کو محسوس کیا جاسکتا ھے اور یہ کیفیت خاموشی سے بہت کچھ سنا جاتی ہے۔۔ صرافہ بازار کی گہماگہمی کے درمیان وہ مکان بھی دیکھنے کا موقع ملا جو برصغیر کے معروف بھارتی فلمی اداکار اور سیاست دان راج ببر کا آبائی گھر تھا۔ اس قدیم عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوا جیسے اس شہر کی گلیوں نے ایک ایسی شخصیت کو پروان چڑھایا جس نے آگے چل کر فلم اور سیاست دونوں میدانوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی جلالپور کی یہ خاموش گلیاں آج بھی اپنے دامن میں ایسی بے شمار یادیں اور داستانیں سمیٹے ہوئے ہیں۔
چلتے چلتے ہماری ملاقات داستان گو کتاب دوست اور شہر کی تاریخ کے امین خواجہ محمد یونس صراف سے ہوئی۔ ان کی گفتگو میں ایسا سحر تھا کہ ہر واقعہ محض ایک قصہ نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا منظر محسوس ہوتا تھا۔ ان کی یادداشت میں جلالپور جٹاں کی کئی نسلوں کی تاریخ سانس لیتی دکھائی دی۔
داستان گو حاجی محمد یوسف صرافہ صاحب کتابیں جمع کرنے کے شوقین۔ مطالعہ کتب کے شوقین ہیں ان کے پاس ہزاروں کی تعداد میں پرانے رسائل اخبارات تاریخی ادبی مذہبی کتب موجود ہیں۔

اڈہ ٹم ٹم کے پاس ایک بلند و بالا تین منزلہ عمارت۔دیکھی جس کی دیوار پر اردو زبان میں پرمیشور کی عبادت کرو اور وہ سکھ شانتی سے نوازتا ہے۔ لکھا ہوا ملا یہ ہندووں برہمن کا پاٹ شالہ تھا۔ جس کی باقیات ابھی تک سامنے نظر آتی ہیں۔
جلالپور جٹاں کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک قدیم مسجد نے ہماری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ یہ مسجد اپنے طرز تعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث دیگر مساجد سے منفرد محسوس ہوئی۔ اس کا نام مسجد کھسراں ھے یعنی کھسروں کی مسجد۔
صنف کثیف اور صنف لطیف کے درمیان ایک تیسری صنف یعنی صنف زنا مردی کی بھی ہے یعنی آدھا مرد اور آدھی عورت دوسرے لفظوں میں انہیں خسرے بھی کہتے ہیں۔ ہندوستان میں میر بھجڑی ان کے سلسلے کا بانی تھا۔ میر بھجڑی کی کڑاہی ایک رسم ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ محرم الحرام کی چاند راتوں میں یہ لوگ کسی مرکز میں جمع ہو جاتے ہیں اور میر بھجڑی کے نام کی کڑاہی پکاتے ہیں۔ جو امیدوار ان کے گروہ میں شامل ہو کر حلقہ بگوش بننا چاہتا ہے اسے بھی اپنے ساتھ بٹھاتے ہیں۔ خود بھی کھاتے ہیں اور اسے بھی کھلاتے ہیں پھر دوسرے مراسم ادا کیے جاتے ہیں۔ کھسرا پنجابی میں خواجہ سرا اور ہیجڑا اور زنخا لکھنؤ و دہلی کی زبان میں ہجڑا کہلاتے ہیں۔
چلتے چلتے ہم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے۔ میں اور احسان فیصل کنجائی تو تھکن سے نڈھال ہو کر ہمت ہارنے لگے، مگر رائے فصیح اللہ جرال کے قدموں میں جیسے ابھی بھی وہی تازگی تھی۔ وہ پوری دل چسپی سے ہمیں شہر کی گلیوں اور تاریخی مقامات سے روشناس کراتے جا رہے تھے۔ آخرکار شہر سے باہر ایک لیموں پانی کے ٹھیلے پر رکے۔ ٹھنڈے لیموں پانی کے چند گھونٹوں نے جسم کی ساری تھکن اتار دی گرمی کی شدت بھی کچھ کم محسوس ہوئی اور یوں چند لمحوں کا یہ مختصر سا وقفہ ہمارے سفر میں نئی تازگی بھر گیا۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی احسان فیصل کنجائی نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یار فصیح ایک خواہش باقی ہے مجھے شہباز پل بھی دیکھنا ہے۔ بس پھر کیا تھا گاڑی نے نئی سڑک کا رخ کیا اور ہم سیالکوٹ روڈ پر واقع شہباز پل کی طرف روانہ ہو گئے۔ پل پر پہنچے تو دریائے چناب اپنی پوری رعنائی کے ساتھ ہمارا منتظر تھا۔ دریا کی لہریں کناروں سے ٹکرا رہی تھیں اور آسمان پر ابھرتا چاند اپنی دودھیا روشنی پانی پر بکھیر رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی مصور نے چاندی کا ایک وسیع فرش دریائے چناب پر بچھا دیا ہو۔ چناب کی موجوں میں ہمیں سوہنی کی صورت اور محبت کا عکس دکھائی دیا۔ یہ عکس نہ صرف ہمیں دکھائی دیا بلکہ سوہنی سے محبت کرنے والے ہر عام و خاص سوہنی کی صورت چناب میں دکھائی دیتی ھے۔ سوہنی کی صورت آج بھی اپنے محبوب سے ملنے کے لیے کچے گھڑے کا سہارا لیے انہی لہروں میں اترنے کو بے تاب ہو۔

واپسی کے وقت دریائے چناب کی موجیں چیخنے لگیں اور کہنے لگی کہ محبت سے کبھی بے وفائی نہ کیجئو۔۔
خیر رات ساڑھے آٹھ ایک نجی ہوٹل پر رات کا کھانا کھایا اور شہر گجرات ساڑھے نو بجے پہچ گئے اور کچری روڈ پر فصیح نے ہم دونوں کو خیر باد کہا اور ہم تینوں اپنی اپنی راہ کی طرف گامزن ہو گئے۔
واپسی کا سفر ابھی جاری تھا کہ بدقسمتی سے ٹیکسی خراب ہو گئی اور خاصی دیر سڑک کنارے رکنا پڑا۔ یوں گھر پہنچتے پہنچتے رات کے گیارہ بج گئے۔ دروازہ کھلا تو اماں ابا نے اپنی محبت بھرے انداز میں خوب عزت کی جو کہ صدیوں تک یاد رکھی جائے گی۔
بہرحال آج کے دن کی تھکن تاریخی گلیوں کی خاک آثار قدیمہ اور گجرات آوارگی ماضی کی حسین یاد کا حصہ بن کر ہمیشہ یاد رہے گا۔

More posts