تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات پر غور شروع کر دیا ہے، جسے سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے اندر اس معاملے پر ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے اور جنگ کے اگلے مرحلے کے ساتھ ساتھ ممکنہ مذاکراتی راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ سفارت کاری میں جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ مصر، قطر اور برطانیہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
ممکنہ معاہدے کے نکات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا حل، اور جوہری و میزائل پروگرام پر طویل مدتی معاہدہ شامل ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا یورینیم افزودگی کے خاتمے اور میزائل پروگرام پر پابندی کا خواہاں ہے، جبکہ ایران جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اختلافات کے باعث یہ عمل پیچیدہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران جنگ کے بعد امن مذاکرات پر غور، ٹرمپ انتظامیہ متحرک
