Baaghi TV

امریکہ نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سعودی عرب کو ایرانی حملوں کے خلاف دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

سی این این کے مطابق ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق امریکہ نے سعودی عرب کی جانب سے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کی درخواستوں کی منظوری دے دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے تیسرے فریق کے ذریعے ہتھیاروں کی منتقلی کی بھی اجازت دے دی ہے، جس کے تحت اتحادی ممالک اپنے ذخائر میں موجود امریکی ساختہ اسلحہ سعودی عرب کو فراہم کر سکیں گے۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔عہدیدار کے مطابق سعودی عرب کو سب سے زیادہ خدشہ ایران کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملوں کا ہے، خاص طور پر اگر امریکہ ایران کے اہم تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔ خلیجی عرب ممالک، جو پہلے ہی ایرانی حملوں کا سامنا کر چکے ہیں، اس صورتحال میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوری میں امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی تھی، جس کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ نومبر میں سعودی عرب کو امریکہ کا “میجر نان نیٹو اتحادی” قرار دیا گیا، جس کے بعد اسلحہ کی منتقلی کے عمل کو مزید آسان بنا دیا گیا۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو بائی پاس کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے لیے تقریباً 8.4 ارب ڈالر، کویت کے لیے 8 ارب ڈالر اور اردن کے لیے 70.5 ملین ڈالر کے اسلحہ معاہدوں کی منظوری بھی تیز رفتار بنیادوں پر دی۔

دوسری جانب قطر نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی ثالثی میں شامل نہیں۔ ایک قطری سفارتکار کے مطابق ایران کی جانب سے گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد قطر اس وقت اپنی دفاعی صورتحال کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

More posts