ایران سے متعلق جنگی پالیسی پر اختلافات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جو کینٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایران سے امریکا کو فوری طور پر کوئی براہ راست خطرہ لاحق نہیں تھا، جبکہ جنگ کا آغاز اسرائیل اور اس سے منسلک اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کے دباؤ پر کیا گیا۔
ان کے استعفے پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
جو کینٹ بطور سربراہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر دہشت گردی کے خطرات کی نگرانی، تجزیہ اور انسداد کی حکمت عملی کے ذمہ دار تھے۔
سرکاری ذمہ داریوں سے قبل وہ ریاست واشنگٹن سے کانگریس کے لیے انتخابی مہم بھی چلا چکے ہیں، تاہم کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی فوج میں گرین بیریٹ کے طور پر متعدد تعیناتیاں کیں اور بعد ازاں سی آئی اے میں بھی خدمات انجام دیں۔
یاد رہے کہ ان کی اہلیہ شینن کینٹ 2019 میں شام میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو جھٹکا، انسداد دہشتگردی مرکز کے ڈائریکٹر مستعفی
