Baaghi TV

ٹرمپ پہلے حملہ، پھر مذاکرات کے حامی، ایران کے جوہری اور میزائل مراکز ممکنہ ہدف


امریکی اخبارات کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں پہلے فوجی کارروائی اور بعد ازاں مذاکرات کی حکمتِ عملی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملے کے بعد سفارتی دروازے کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات سے متعلق پینٹاگون نے صدر کو تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی سوچ یہ ہے کہ دباؤ بڑھانے کے لیے ابتدائی طور پر فضائی حملہ کیا جائے، جس کے بعد بات چیت کا آغاز کیا جائے۔
‎نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف میں ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل کے ٹھکانے، سائبر انفراسٹرکچر اور داخلی سیکیورٹی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔
‎اسی دوران ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی سمت پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ نے مذاکرات کے لیے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے رابطہ کیا ہے، جس سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کے اشارے مل رہے ہیں۔

More posts