Baaghi TV

ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے بچنے کی امید، بات چیت جاری ،ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہیں امید ہے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکتا ہے، تاہم تہران نے کسی بھی ممکنہ حملے کے جواب میں امریکی فوجی اڈوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور وہ فوجی آپشن استعمال کرنے سے گریز چاہتے ہیں، حالانکہ اس سے قبل وہ یہ خبردار بھی کر چکے ہیں کہ تہران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ امریکا نے اسی تناظر میں خطے میں ایک بڑا بحری بیڑا بھی روانہ کیا ہے۔
‎جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے بات کر چکے ہیں اور مزید منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک امریکی گروپ ایران کے قریب جا رہا ہے، مگر امید ہے کہ اسے عملی طور پر استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔
‎دوسری جانب واشنگٹن کے لہجے میں سختی آئی ہے جبکہ ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی کارروائی کا جواب محدود نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے فریقین پر زور دیا ہے کہ ایٹمی مذاکرات کے ذریعے بحران کو حل کیا جائے تاکہ خطے میں تباہ کن نتائج سے بچا جا سکے۔
‎ایران کے ایک سینئر فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کمزور ہیں اور خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی زد میں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

More posts