Baaghi TV

ٹرمپ کا خطاب،مہنگائی،ایندھن بحران کا خدشہ،ماہرین کے سوالات

trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ خطاب کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں اور ماہرینِ معیشت میں تشویش بڑھ گئی ہے، جہاں جنگ، مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تقریر کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی وجہ جنگ کے دورانیے میں ممکنہ توسیع اور سپلائی چین پر بڑھتا دباؤ ہے۔مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریر میں واضح حکمت عملی کا فقدان تھا، البتہ یہ اشارہ ضرور دیا گیا کہ بمباری آئندہ دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔ اس اعلان کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عالمی ایندھن سپلائی چین مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی واضح منصوبے کی عدم موجودگی کو نمایاں قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اہم بحری راستہ بند رہتا ہے تو تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً 25 فیصد سمندری تیل تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات "اسٹیگفلیشن” (معاشی سست روی اور مہنگائی کا بیک وقت بڑھنا) کو جنم دے سکتے ہیں۔کرنسی ماہرین کے مطابق جنگ اگر جون تک جاری رہتی ہے تو امریکی ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

ادھر اسرائیل پر ایران کی جانب سے رات بھر میزائل حملے کیے گئے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق کسی جانی نقصان یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعض میزائل شمالی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں فائر کیے گئے۔

ٹرمپ کی جانب سے ایران کو "پتھر کے دور میں واپس بھیجنے” کی دھمکی پر کونسل آف اسلامک ریلیشن نے سخت ردعمل دیا ہے۔ تنظیم نے اس بیان کو مسلم مخالف، نسل پرستانہ اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کو جنگی جرم کہا ہے۔

دوسری جانب ایران کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ جنگ دشمن کی "مکمل ہتھیار ڈالنے” تک جاری رہے گی۔ ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کو مزید سخت اور وسیع حملوں کی وارننگ بھی دی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر انتہائی سخت حملے کرے گا اور اسے پتھر کے دور میں واپس لے جائیں گے، ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا گیا ہے، بہت جلد فوجی مقاصد حاصل کر لیں گے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو نقصان نہیں ہونے دیں گے، امریکی فوجی کارروائی نے تہران کی عسکری طاقت کو تباہ کر دیا ہے اور اہم اسٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں،امریکی افواج آئندہ دو سے تین ہفتوں تک ایران کو انتہائی سخت نشانہ بنائیں گی.

More posts