Baaghi TV

ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر قبضے پر غور، ایران کی فوجی طاقت ختم ہونے کا دعویٰ

trump

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پیر کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی حکومت دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز پر ممکنہ طور پر کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہوئی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اس پر قبضہ یا اس کے انتظامی کنٹرول کے امکانات پر “سوچ رہا ہے”۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت حساس سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس وجہ سے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب منڈلا رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ خلیج کے اہم راستوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے خلاف جنگ تقریباً مکمل ہونے کا دعویٰ
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ جنگ تقریباً اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ان کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا“میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس اب نہ بحریہ رہی ہے، نہ موثر مواصلاتی نظام، اور نہ ہی فضائیہ۔ ان کے میزائل منتشر ہو چکے ہیں اور ان کے ڈرون ہر جگہ تباہ کیے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ ان کی ڈرون بنانے والی فیکٹریاں بھی نشانہ بنائی جا رہی ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو فوجی لحاظ سے ان کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔”

انٹرویو کے دوران صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ایکے لیے کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں امریکی صدر نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا “میرا ان کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے، بالکل بھی نہیں۔”

More posts