واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیئم اپنے قبضے میں لینے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین نے اس نوعیت کے کسی بھی فوجی مشن کو انتہائی خطرناک اور پیچیدہ قرار دے دیا ہے۔
امریکی صدر کے بیان کے مطابق ایران کا تقریباً 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم گہرائی میں زیرِ زمین محفوظ ہے، جس تک رسائی حاصل کرنا نہایت مشکل عمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی عملی صورت حال چیلنجز سے بھرپور ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس اور تحقیق کاروں کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم 60 فیصد تک افزودہ حالت میں موجود تھا، جسے باآسانی 90 فیصد تک بڑھا کر ہتھیاروں کے معیار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس تقریباً 1000 کلوگرام یورینیئم 20 فیصد جبکہ 8500 کلوگرام 3.6 فیصد تک افزودہ شکل میں موجود ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم ممکنہ طور پر اصفہان میں محفوظ ہے، جو ایران کی اہم زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں شامل ہے۔ اس مقام کو گزشتہ برس امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو مزید مضبوط اور محفوظ بنا لیا ہے۔ خاص طور پر اصفہان میں سرنگوں کے داخلی راستے مٹی سے بند کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث کسی بھی بیرونی فوجی کارروائی کو عملی جامہ پہنانا نہایت دشوار ہو گیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اس طرح کا کوئی آپریشن شروع کرتا ہے تو اسے نہ صرف بھاری مشینری کے استعمال کی ضرورت پڑے گی بلکہ ممکنہ ایرانی جوابی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
