امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حالیہ دھمکیوں پر ایرانی آرمی چیف نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے دشمن کو واضح پیغام دے دیا ہے۔
العربیہ پر شائع ہونے والی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کے بعد ایران خاموش نہیں رہے گا اور کسی بیرونی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کے خلاف دشمن کی اشتعال انگیز بیان بازی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جسے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرزِ عمل کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی آرمی چیف نے واضح کیا کہ اگر دشمن نے کسی بھی قسم کی غلطی کی تو ایران کا ردعمل جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی بارہ روزہ جنگ سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی ایرانی احتجاجی مظاہروں کی کھلے عام حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایران میں ماضی کی طرح تشدد کیا گیا تو اس کا جواب انتہائی سخت ہوگا۔
ادھر نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اسرائیل ایرانی عوام کی جدوجہد، آزادی، خود مختاری اور انصاف کی خواہشات کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بیانات کو تشدد پر اکسانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اقدامات ایران کی قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بیانات پر ایرانی آرمی چیف کا سخت ردعمل، دشمن کو سنگین نتائج کی وارننگ
