امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی قیادت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مؤثر اور قابل تحسین قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات پاکستان کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے ممکن ہوئے۔
ٹرمپ کے مطابق مذاکرات کا آغاز صبح سویرے ہوا اور تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہا، جس دوران کئی اہم نکات پر پیش رفت بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران فریقین کے درمیان بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھی، تاہم کچھ بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
امریکی صدر نے پاکستانی قیادت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف ان مذاکرات کو ممکن بنایا بلکہ خطے میں امن کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی رہنماؤں نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا، جو ایک سنگین انسانی بحران کا سبب بن سکتا تھا۔
تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، جس کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے لیے یہ قابل قبول نہیں کہ ایک غیر متوقع ملک کے پاس جوہری صلاحیت موجود ہو۔ اسی وجہ سے اس معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ سفارتی سطح پر پیش رفت ہوئی ہے، مگر کچھ اہم معاملات ایسے ہیں جن کے حل کے بغیر مکمل معاہدہ ممکن نہیں۔
ٹرمپ نے ایران امریکہ مزاکرات پہ پاکستانی قیادت کو سراہا
