وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی شرائط کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے غیر سنجیدہ قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیا گیا 10 نکاتی امن منصوبہ صدر ٹرمپ نے “ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا” کیونکہ وہ امریکی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر غیر سنجیدہ تھا اور قابل قبول نہیں تھا۔
ترجمان کے مطابق بعد میں ایران نے ایک مختصر اور ترمیم شدہ منصوبہ پیش کیا، جو امریکی 15 نکاتی تجویز کے قریب تر تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اصل مذاکرات بند کمروں میں ہو رہے ہیں اور عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات حقیقت سے مختلف ہو سکتی ہیں۔
کیرولین لیویٹ نے کہا کہ یہ تصور کرنا کہ صدر ٹرمپ ایران کی شرائط کو جوں کا توں قبول کر لیں گے، مکمل طور پر غلط ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران عوامی سطح پر کچھ اور اور نجی مذاکرات میں کچھ اور مؤقف اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی واضح شرائط میں ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہ دینا شامل ہے، کیونکہ یہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت فراہم کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے اپنے 10 نکاتی منصوبے میں امریکی فوجی اڈوں کے انخلا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے جیسے مطالبات شامل کیے تھے، تاہم امریکا نے ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور حتمی معاہدے کے لیے مزید پیچیدہ مذاکرات درکار ہوں گے۔
ٹرمپ نے ایران کا امن منصوبہ مسترد کر دیا
