ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان حکمت عملی میں اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی عوام کو بغاوت پر اکسانے کی تجویز مسترد کر دی۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق دو امریکی حکام اور ایک اسرائیلی ذریعے نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج کی اپیل کرنا چاہتے تھے، تاہم ٹرمپ نے اس اقدام کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے فون پر ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کی، مگر امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایسی اپیل عوام کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں کو سڑکوں پر آنے کا کہنا درست نہیں جب انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہو۔
ایگزیوس کے مطابق امریکا اور اسرائیل زیادہ تر فوجی اہداف پر متفق ہیں، لیکن ایران میں رجیم چینج اور اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے دونوں کے مؤقف میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بعض اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کا مقصد بھی ایران میں عوامی ردعمل کو ابھارنا تھا، تاہم اس حکمت عملی کے نتائج محدود رہے۔
بعد ازاں ایرانی تہوار کے موقع پر بھی عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نہیں آئی، جس کی بڑی وجہ حکومتی ردعمل کا خوف قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے معاملے پر اتحادی ممالک کے درمیان بھی پالیسی سطح پر مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔
ایران سے متعلق حکمت عملی پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلاف، بغاوت کی تجویز مسترد
