فلوریڈا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا میں ہونے والے رات گئے امریکی فوجی آپریشن کے دوران اگر ضرورت پیش آتی تو امریکی فوج وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہلاک بھی کر سکتی تھی۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس آپریشن کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ کارروائی انتہائی تیزی اور درستگی کے ساتھ انجام دی گئی۔صدر ٹرمپ کے مطابق، “ایسا ہو سکتا تھا۔ مادورو ایک محفوظ جگہ کی طرف جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ آپ جانتے ہیں وہ محفوظ جگہ مکمل طور پر اسٹیل کی بنی ہوئی تھی، لیکن وہ دروازے تک پہنچ ہی نہیں سکا کیونکہ ہمارے لوگ بہت تیز تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے انتہائی قلیل وقت میں مزاحمت کو عبور کیا، اگرچہ راستے میں سخت مقابلہ بھی دیکھنے میں آیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “لوگ سوچ رہے تھے کہ کیا ہم انہیں اچانک حیران کر دیں گے؟ کسی حد تک تو حیرانی ہوئی، لیکن وہ کسی کارروائی کے لیے تیار تھے۔ وہاں کافی مزاحمت تھی، بہت زیادہ فائرنگ ہوئی۔”
امریکی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ نکولس مادورو اس وقت امریکی بحری جہاز یو ایس ایس آئیوو جیما پر امریکی تحویل میں موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے کچھ دیر قبل مادورو کی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں انہیں امریکی حراست میں دکھایا گیا۔
ادھر، وینزویلا میں ہونے والے اس فوجی آپریشن کے دوران امریکی فوج کے چند اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سی این این کو بریفنگ دینے والے ایک ذریعے کے مطابق، “چند فوجیوں کو گولیوں اور چھروں کے زخم آئے ہیں، تاہم کوئی بھی زخم جان لیوا نہیں ہے۔”
امریکی فوجی کارروائی پر کانگریس کو پیشگی اطلاع ممکن نہیں تھی، مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی، جس کے دوران فضائی حملے کیے گئے اور صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا، ایسی نوعیت کی تھی جس پر کانگریس کو پیشگی اطلاع دینا ممکن نہیں تھا کیونکہ اس سے مشن کو خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔فلوریڈا میں ہفتے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ یہ ایک “ٹرگر بیسڈ مشن” تھا جس میں ہر رات مخصوص شرائط پوری ہونے کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز نے کئی دنوں تک حالات کی نگرانی کی اور جیسے ہی مطلوبہ شرائط پوری ہوئیں، کارروائی عمل میں لائی گئی۔
مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اس طرح کے خفیہ اور حساس آپریشن میں یہ کہنا ممکن نہیں ہوتا کہ “ہم اگلے 15 دنوں میں کسی بھی وقت کارروائی کر سکتے ہیں”، کیونکہ ایسی معلومات لیک ہونے سے مشن کی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی بڑی حد تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نوعیت کی تھی، نہ کہ روایتی فوجی مہم۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “کانگریس میں معلومات کے لیک ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے”،اسی لیے ایسے حساس آپریشنز میں مکمل راز داری ضروری ہوتی ہے۔
دوسری جانب، امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وینزویلا میں کارروائی کے بعد امریکی انتظامیہ نے کانگریس کی قیادت اور اہم کمیٹیوں کو بعد ازاں اس آپریشن سے آگاہ کیا۔
نکولس مادورو کی گرفتاری ،150 سے زائد طیاروں کا استعمال،خفیہ آپریشن کی تفصیلات
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے اس سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وینزویلا کے اندر امریکی حملوں کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی، جس پر اب سیاسی اور آئینی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر امریکہ میں اختیارات کی تقسیم، کانگریس کے کردار اور صدارتی اختیارات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ وینزویلا میں امریکی مداخلت عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دے سکتی ہے۔
