امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان سے پیچھے ہٹتے ہوئے اب ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا نیا فیصلہ سامنے رکھ دیا ہے۔ اس اچانک تبدیلی نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں اعلان کیا کہ 13 اپریل کو ایسٹرن ٹائم کے مطابق صبح 10 بجے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی جائے گی۔ پاکستانی وقت کے مطابق یہ اقدام شام 7 بجے نافذ العمل ہوگا۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں کو روکنے کے لیے کارروائی کرے گی۔
یہ اعلان ایک دن قبل کیے گئے اس بیان کے برعکس ہے جس میں ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا عندیہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر اس اہم سمندری گزرگاہ کو بند کر دے گی اور تمام جہازوں کی نقل و حرکت کو روک دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس پالیسی میں تبدیلی ممکنہ طور پر عالمی دباؤ اور معاشی اثرات کے خدشات کے باعث کی گئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی بندش سے عالمی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی ایک سخت اقدام ہے، تاہم یہ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے مقابلے میں نسبتاً محدود اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود اس فیصلے سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے تاحال اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی کے تجربات کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں مزید تناؤ کو جنم دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا یوٹرن، آبنائے ہرمز کے بجائے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان
