امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اس ماہ متوقع ان کا دورۂ چین ایک ماہ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال سے نمٹ رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ چینی صدر سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، تاہم موجودہ حالات کے باعث اس دورے کو کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔“ہم چین سے بات کر رہے ہیں۔ میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں، لیکن جنگ کی وجہ سے میں یہیں رہنا چاہتا ہوں۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ اس دورے کو تقریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔”امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کو آبنائے ہرمز کی بحالی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق چین اپنی 90 فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اس لیے بیجنگ کو اس معاملے میں امریکا کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کے مؤقف کو جاننا چاہتے ہیں اور ممکنہ طور پر یہی معاملہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مجوزہ سربراہی ملاقات میں زیر بحث آئے گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دورانیے کے بارے میں مبہم انداز میں کہا کہ یہ جنگ “جلد ختم ہو جائے گی۔”انہوں نے کہا “مجھے نہیں لگتا کہ یہ اس ہفتے ختم ہو جائے گی، لیکن زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ جب یہ ختم ہو گی تو دنیا زیادہ محفوظ ہو گی۔”امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ایران خلیجی خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ان کے مطابق “بڑے سے بڑے ماہرین کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران پڑوسی ممالک پر حملے کرے گا۔”
