امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو ایک ہی رات میں مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے اور وہ رات منگل کی رات بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں حالیہ امریکی ریسکیو آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے اسے تاریخ کے اہم ترین مشنز میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کی سرزمین سے اپنے پائلٹ کو دن کی روشنی میں بحفاظت نکالا، حالانکہ اس دوران امریکی فوجیوں کو انتہائی قریب سے فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
امریکی صدر کے مطابق ابتدائی ریسکیو کوشش میں 21 لڑاکا طیارے شریک تھے جبکہ دوسرے اور بڑے آپریشن میں مجموعی طور پر 155 طیاروں نے حصہ لیا۔ ان میں 4 بمبار طیارے، 64 فائٹر جیٹس، 48 ری فیولنگ ٹینکرز اور 13 ریسکیو ایئرکرافٹ شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام کارروائی ان کی ہدایت پر کی گئی اور امریکی طیارے ایران کے اندر تک گئے تاکہ پائلٹ کو تلاش کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ اس آپریشن میں تقریباً 200 فوجیوں نے حصہ لیا اور جدید ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا گیا، جن کی کارکردگی نہایت مؤثر رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے آپریشن کے دوران کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جو اس مشن کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کے دوران امریکا نے اپنے دو طیاروں کو خود ہی تباہ کر دیا تاکہ حساس ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکے۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکا نہ صرف اپنی فوجی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے بلکہ اگر ضرورت پڑی تو انتہائی سخت اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کی ایران کو کھلی دھمکی، ایک رات میں تباہ کرنے کا دعویٰ
