امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر جنیوا میں آج بروز منگل شروع ہونے والے مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے۔
روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے اور یہ مذاکرات بہت اہم ہوں گے۔ مذاکرات سے قبل تناؤ بدستور جاری ہے، اور امریکہ مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار جہاز تعینات کر رہا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو طویل فوجی مہم کے امکانات پر تیاری کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے گزشتہ موسم گرما میں سخت موقف اختیار کیا تھا، لیکن اس وقت اس نتائج کا سامنا کرنا پڑا جب امریکہ نے ایرانی جوہری مقامات پر بمباری کی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس بار ایران بات چیت کے لیے آمادہ ہے اور معاہدہ نہ کرنے کے نتائج بھگتنا نہیں چاہے گا۔
ایران کی جانب سے بھی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس میں پارس اسپیشل اکنامک انرجی زون میں کیمیائی دفاعی مشق شامل ہے تاکہ ممکنہ کیمیائی واقعات سے نمٹنے کی تیاری کی جا سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مسقط میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے کہا کہ امریکی موقف مزید حقیقت پسندی کی طرف مائل ہو گیا ہے اور ایران کے ناقابل تنسیخ حقوق، بشمول پرامن جوہری توانائی اور افزودگی، تسلیم کیے گئے ہیں۔
ٹرمپ جنیوا مذاکرات میں بالواسطہ شامل، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر امیدیں
