امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ کھولی گئی تو امریکا ایران کے اہم توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں ایک نئی اور زیادہ معقول قیادت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ جاری فوجی کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ جلد نہ ہو سکا اور آبنائے ہرمز بند رہی تو امریکا سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا۔
ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ایسی صورت میں ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں، خارگ جزیرے اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان امریکی شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت کا ردعمل ہوگا جنہیں وہ ایران سے جوڑتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی دھمکی، ایران کو سخت کارروائی کا انتباہ
