Baaghi TV

ٹرمپ کا پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی حملے پر ردعمل، پاکستان کی مذمت

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی حملے کی اطلاعات پر گہرے دکھ اور شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں سن کر انہیں بہت برا لگا، جبکہ ان کے مطابق روسی صدر پیوٹن سے حالیہ بات چیت خوشگوار رہی ہے، تاہم یوکرین میں امن کے قیام کے لیے اب بھی کئی پیچیدہ مسائل درپیش ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کو اس وقت تحمل، سفارت کاری اور امن کی ضرورت ہے، ایسے حملے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی کوششیں ناگزیر ہیں۔

کریملن کے مطابق یوکرینی حملے سے متعلق امریکی صدر کو آگاہ کیے جانے پر ڈونلڈ ٹرمپ حیران رہ گئے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے نووگورود ریجن میں واقع صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ حملے کے وقت صدر پیوٹن وہاں موجود تھے یا نہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب یوکرین کی جانب سے مجموعی طور پر 91 لانگ رینج ڈرونز فائر کیے گئے، جن کا ہدف پیوٹن کی رہائش گاہ تھی۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

ادھر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے گھناؤنے حملے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کے صدر، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سلامتی اور امن کو خطرے میں ڈالنے والے تشدد کے تمام طریقوں کو مسترد کرتا ہے اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد راستہ سمجھتا ہے۔

دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایسے الزامات لگا رہا ہے۔ ان کے مطابق روس یوکرین کی سرکاری عمارتوں پر حملوں کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یوکرینی صدر نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ روس کی دھمکیوں اور بیانات پر واضح ردعمل دے اور یوکرین کے مؤقف کو عالمی سطح پر سنا جائے۔

More posts