بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع اکولا میں پولیس اہلکار کی جانب سے خاتون کے ساتھ مبینہ غیر اخلاقی رویے کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے پورے محکمہ پولیس کو ہلا کر رکھ دیا۔
رپورٹس کے مطابق ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) نے دورانِ حراست ایک خاتون ملزمہ کو نہایت نازیبا پیشکش کی۔ خاتون کو تقریباً 80 لاکھ روپے کے فراڈ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے تھانے لایا گیا تھا، جہاں ملزم اہلکار نے مبینہ طور پر کہا: “تم بہت خوبصورت ہو، تمہاری بیٹی بھی خوبصورت ہوگی، اسے میرے پاس بھیج دو، میں تمہیں 10 ہزار روپے دوں گا۔”اس شرمناک جملے کے بعد خاتون شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو گئی اور اس نے فوری طور پر ایک خاتون پولیس افسر کو شکایت درج کرا دی۔
شکایت موصول ہوتے ہی ضلعی پولیس حکام نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزم اے ایس آئی کو معطل کر دیا۔ پولیس کے مطابق معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ملزم اس وقت مفرور بتایا جا رہا ہے۔حکام نے ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ملزم پولیس اہلکار کے خلاف ماضی میں بھی خواتین کے ساتھ نامناسب رویے اور دیگر شکایات سامنے آ چکی ہیں، جن میں ایک خاتون پولیس افسر کی جانب سے بھی شکایت شامل تھی۔
مہاراشٹر اسٹیٹ ویمن کمیشن کی رکن نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی اور اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملزم کو کسی رعایت کے بغیر سخت سزا دی جائے گی۔
