متحدہ عرب امارات نے اسرائیل میں اسٹریٹجک شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے 10 ارب ڈالر کے خصوصی فنڈ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان ولی عہد ابوظہبی اور نائب سپریم کمانڈر یو اے ای مسلح افواج شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی تعمیری ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سامنے آیا۔سرکاری بیان کے مطابق یہ فنڈ توانائی، مینوفیکچرنگ، پانی، خلائی ٹیکنالوجی، صحت اور زرعی ٹیکنالوجی سمیت مختلف اہم شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان علاقائی معاشی تعاون کو فروغ دیا جائے گا جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی حمایت بھی کی جائے گی۔ فنڈ کے وسائل سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں سے حاصل کیے جائیں گے۔
یہ اقدام تاریخی ابراہیم معاہدہ کے تسلسل میں کیا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات معمول پر آئے۔ اس معاہدے میں امریکہ نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فنڈ خطے کی دو مضبوط معیشتوں کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرے گا اور نئی سرمایہ کاری و شراکت داری کے مواقع پیدا کرے گا۔حکام کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف امن معاہدے کے ثمرات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ خطے کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے عزم کی عکاس بھی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام تینوں ممالک کے درمیان دوستی، تعاون اور علاقائی استحکام کے نئے دور کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
