متحدہ عرب امارات نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی مکمل آزادی کی ضمانت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ اس اہم عالمی گزرگاہ کو کسی بھی ملک کے زیر اثر یا یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق انور قرقاش نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے معاہدے میں عالمی تجارتی راستوں کی آزادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم تجارتی شاہراہ ہے، جہاں سے تیل اور دیگر اہم وسائل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس گزرگاہ کی آزادی متاثر ہوئی تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس کی مکمل حفاظت اور آزادی کو یقینی بنایا جائے۔
انور قرقاش نے صرف جنگ بندی پر مبنی کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عارضی اقدامات مسائل کا حل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق ایک پائیدار اور جامع معاہدہ ضروری ہے جس میں ایران کے ایٹمی پروگرام، بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں جیسے حساس معاملات کو مستقل طور پر حل کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیادی تنازعات کو نظر انداز کر کے کوئی معاہدہ کیا گیا تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ پہلے سے زیادہ خطرناک صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔
اماراتی مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اب خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے زیادہ واضح اور مضبوط ضمانتیں چاہتے ہیں، خاص طور پر ایسے معاملات میں جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے جڑے ہوئے ہیں۔
امریکا ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے:یو اے ای نے آبنائے ہرمز کی آزادی کی ضمانت مانگ لی
