متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اگر ایران خطے میں ثالثی کے عمل کو ممکن بنانا چاہتا ہے تو اسے پہلے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرنا ہوں گے۔
یو اے ای کی اعلیٰ اہلکار لانا نسیبہ نے کہا کہ موجودہ جنگ کا خاتمہ بالآخر مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ کشیدگی کم ہو اور حملے رک جائیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے کئی ممالک اس بات پر حیران ہیں کہ ایران نے اپنے پڑوسی ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق جب حملے جاری ہوں تو اس وقت ثالثی کے بارے میں بات کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
لانا نسیبہ نے مزید کہا کہ کسی بھی سفارتی پیش رفت کے لیے مناسب ماحول درکار ہوتا ہے اور ثالثی اسی وقت ممکن ہے جب بندوقیں خاموش ہوں۔
اس سے قبل یو اے ای کی وزارت دفاع نے بتایا تھا کہ ایران نے مجموعی طور پر 16 بیلسٹک میزائل داغے جن میں سے ایک سمندر میں جا گرا جبکہ باقی کو دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔
وزارت دفاع کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران 121 ڈرونز کا سراغ لگایا گیا جن میں سے 119 کو مار گرایا گیا جبکہ دو ڈرونز یو اے ای کی حدود میں گرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 221 بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے جن میں سے 205 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ صرف دو میزائل زمین پر گرے۔
ایران کو ثالثی کے لیے حملے روکنا ہوں گے، یو اے ای کا مؤقف
