برطانیہ شدید برفانی طوفان ’’گوریٹی‘‘ کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر ویسٹ مڈلینڈز ریجن میں گزشتہ دس برسوں کی شدید ترین برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے ٹرانسپورٹ، فضائی سفر اور روزمرہ سرگرمیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے دوران 100 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں اور مسلسل برفباری کے باعث خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی۔ شدید موسمی حالات کے پیش نظر برمنگھم ایئرپورٹ کو تمام پروازوں کے لیے رن وے بند کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں درجنوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ادھر کارنوال میں طوفان کی شدت کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی، جہاں ہواؤں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ تیز آندھی کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، بجلی کے کھمبے گر گئے اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ مقامی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو ٹیمیں متحرک کر دیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
دارالحکومت لندن میں بھی شدید سردی، برفباری اور طوفانی ہواؤں کے باعث شہریوں کو گھروں میں محصور ہو کر رہنا پڑا۔ سڑکیں پھسلن کا شکار ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، جبکہ کئی اسکولوں اور دفاتر کو بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ویسٹ مڈلینڈز ریجن میں طوفان گوریٹی کے پیش نظر ایمبر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام نے عوام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، محفوظ مقامات پر رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ ریسکیو اور ایمرجنسی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں تک موسم کی صورتحال مزید خراب رہنے کا امکان ہے، جبکہ شہریوں کو سرد موسم، برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
