Baaghi TV


برطانوی وزیر اعظم کا ٹرمپ کو گرین لینڈ پر دباؤ کے بجائے سفارت کاری اختیار کرنے کا مشورہ


برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر دباؤ ڈالنے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کیئر اسٹارمر نے اتوار کے روز صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے کھل کر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو اتحادیوں پر محصولات عائد کرنا ایک غلط فیصلہ ہوگا۔
‎اس گفتگو سے قبل برطانوی وزیر اعظم ڈنمارک، یورپی یونین اور نیٹو کے اعلیٰ رہنماؤں سے بھی رابطہ کر چکے تھے۔ کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحادیوں کی مشترکہ سلامتی کے لیے مل کر کام کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگانا ناقابلِ قبول ہے۔
‎ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کے مطابق کیئر اسٹارمر نے ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن، یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لاین اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے بات کے بعد صدر ٹرمپ سے گفتگو کی۔
‎ترجمان نے بتایا کہ تمام گفتگوؤں میں برطانوی وزیر اعظم نے گرین لینڈ کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورو۔اٹلانٹک مفادات کے تحفظ کے لیے شمالی خطے کی سلامتی نیٹو کے تمام اتحادیوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
‎میڈیا رپورٹس کے مطابق کیئر اسٹارمر نے گرین لینڈ کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک پر محصولات عائد کرنا ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی لکھا کہ نیٹو اتحادیوں کی اجتماعی سلامتی کے اقدامات پر انہیں سزا دینا سراسر غلط ہے۔
‎برطانوی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ گرین لینڈ ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کو کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرکٹک خطے کی سلامتی پورے نیٹو کے لیے اہم ہے اور اتحادیوں کو باہمی تعاون کے ذریعے خطرات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

More posts