Baaghi TV

برطانوی فوجی کا عراق میں زہر یلے مواد کے سامنے آنے کے باوجود طبی اسکریننگ نہ ملنے کا دعویٰ


برطانوی فوجیوں کا کہنا ہے کہ عراق میں 20 سال پہلے مہلک زہر یلے مواد کے سامنے آنے کے باوجود انہیں حیاتیاتی اسکریننگ کی سہولت نہیں دی گئی، حالانکہ سرکاری ہدایات کے مطابق انہیں یہ سہولت ملنی چاہیے تھی،
2003 میں قرمط علی پانی کی صفائی کے پلانٹ میں تعینات ریفلائٹ فورس (RAF) کے سابق فوجیوں نے بعد میں کینسر، ٹیومر، ناک سے خون آنا اور خارش جیسی بیماریوں میں مبتلا ہونے کی شکایت کی۔
‎یہ متروکہ مقام، جو عراق میں تیل کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا، شدید زہریلے کیمیائی مادے سوڈیم ڈائیکرومیٹ سے ڈھکا ہوا تھا، جو ایک انتہائی مہلک کارسینو جین ہے۔

فوج نے 2003 میں کینسر کے خطرے سے آگاہی حاصل کر لی تھی اور فوجیوں کو حیاتیاتی اسکریننگ کی پیشکش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
15 سابق فوجیوں نے جو قرمط علی میں تعینات تھے، میں سے کسی کو بھی اسکریننگ یا طویل مدتی طبی نگرانی کی سہولت نہیں دی گئی۔ ان میں سے کئی اب صحت کے مسائل کا شکار ہیں جبکہ دیگر اسے "وقت بم” قرار دیتے ہیں۔
‎برطانوی وزارت دفاع کا موقف ہے کہ اس وقت طبی اسکریننگ کی پیشکش کی گئی تھی، اور اس حوالے سے معافی یا تحقیق کے لیے کسی بھی درخواست پر جواب دینے سے گریز کیا گیا۔

More posts