برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم خطے میں سمندری آمدورفت بحال کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا آسان کام نہیں لیکن عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس کا جلد بحال ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت اور اقدامات جاری ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اس معاملے کے حل کے لیے ایک قابلِ عمل اور مستند منصوبے کی ضرورت ہے تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنایا جائے گا۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ جلد ختم ہونی چاہیے کیونکہ اس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں جبکہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
برطانیہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کوششیں جاری
