روس کی اہم تیل برآمدی بندرگاہ اُست لوگا یوکرین کے تازہ ڈرون حملے کے بعد ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے، جس سے روس کی توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزڈینکو کے مطابق رات کے وقت ہونے والے حملے میں روسی فضائی دفاع نے 36 ڈرونز کو مار گرایا، تاہم اس دوران بندرگاہ پر آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے ہنگامی سروسز نے فوری کارروائی کی۔ بعد ازاں اضافی وسائل، بشمول فائر فائٹنگ ٹرینز، طلب کر کے آگ پر قابو پا لیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اُست لوگا بندرگاہ کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا تھا جس کے باعث بدھ سے یہاں لوڈنگ کا عمل معطل ہے۔ اس نئی پیش رفت نے روس کی تیل برآمدات کو مزید متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
اسی خطے میں واقع ایک اور اہم بندرگاہ پرائمورسک بھی حالیہ حملوں میں متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دونوں بندرگاہیں روس کی سمندری تیل برآمدات کا تقریباً 45 فیصد حصہ سنبھالتی ہیں، جو یومیہ تقریباً 17 لاکھ بیرل بنتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی سے جنگ کا دائرہ معاشی محاذ تک پھیل رہا ہے، جس کے عالمی تیل مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یوکرینی ڈرون حملہ، روسی آئل ریفائنری بڑا کو نقصان
