دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ کی جانب سے آٹھ سال پرانے تہرے قتل کیس میں تمام ملزمان کی بریت کے بعد مدعیہ ام رباب چانڈیو نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک جائیں گی۔
عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو نے شدید ردعمل دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ایسا لگتا ہے جیسے بااثر افراد کو کھلی چھوٹ مل گئی ہو۔ ان کے مطابق اس طرح کے فیصلے انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔
یاد رہے کہ عدالت نے سندھ اسمبلی کے رکن نواب سردار خان چانڈیو، ان کے بھائی برہان خان چانڈیو سمیت دیگر نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ بری ہونے والوں میں مرتضیٰ چانڈیو، علی گوہر چانڈیو، سکندر چانڈیو، ذوالفقار چانڈیو، ستار چانڈیو اور سابق ایس ایچ او عبدالکریم چانڈیو بھی شامل ہیں۔
یہ مقدمہ جنوری 2018 میں درج کیا گیا تھا جب ام رباب چانڈیو کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو ایک مسلح حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ام رباب چانڈیو گزشتہ کئی برسوں سے اپنے اہل خانہ کے لیے انصاف کی جدوجہد کر رہی تھیں اور اس دوران ان کی استقامت اور عزم نے ملک بھر کی توجہ حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق اب یہ کیس اعلیٰ عدالتوں میں جانے کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا، جہاں فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
ام رباب چانڈیو کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان
