Baaghi TV

کم عمر شادی قابلِ سزا مگر منسوخ نہیں ہو سکتی

‎پاکستان میں ایک اہم آئینی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی آئینی عدالت نے کم عمر شادی اور مذہب کی تبدیلی سے متعلق ایک حساس کیس پر بڑا فیصلہ سنایا ہے۔
‎عدالت نے لاہور سے تعلق رکھنے والی مسیحی لڑکی ماریہ بی بی کے اسلام قبول کرنے اور بعد ازاں ایک مسلمان شہری شہریار سے نکاح کو قانونی طور پر درست قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ماریہ بی بی نے نکاح سے پہلے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کیا تھا، جس کی تصدیق موجود تھی، اس لیے یہ شادی قانون کے مطابق ہے۔
‎عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ کم عمر شادی قانون کے تحت جرم ہو سکتی ہے اور اس پر سزا بھی دی جا سکتی ہے، لیکن ایسی شادی کو ختم یا کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
‎فیصلے میں مزید کہا گیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ میں کم عمر شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، لیکن اس قانون میں ایسی شادیوں کو ختم کرنے یا منسوخ کرنے کی کوئی شق شامل نہیں ہے، اسی وجہ سے عدالت نے شادی کو برقرار رکھا۔
‎اس فیصلے کے بعد ملک میں کم عمر شادی اور مذہب تبدیلی سے متعلق قانونی اور سماجی بحث میں ایک نیا رخ پیدا ہو گیا ہے۔

More posts