دنیا بھر میں تعلیمی ادارے علم و تربیت کے مراکز ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کئی ادارے تعلیمی یا علمی مرکز نہیں بلکہ ٹارچر سیل ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے نام پر جسمانی اور ذہنی تشدد جائز سمجھا جاتا ہے۔ سکولوں میں بچوں کو زمانہ جاہلیت کی طرز پر جانوروں کی طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈنڈے اور ہاتھ نہیں اٹھائے جاسکتے، وہاں ذہن کو نشانہ بنا لیا جاتا ہے۔ یہاں تمام اختیارات پروفیسر صاحبان کا حق، جبکہ سوال، طالب علموں کا جرم ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف لاہور میں آج سے قریبا 15 روز پہلے اویس نامی طالب علم کی خود کشی اور آج ایک اور پھر اسی یونیورسٹی کی چھت سے کود کر ایک طالبہ کی خود کشی کی کوشش افسوسناک تو ہے ہی۔مگر اس سے کہیں زیادہ اس نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ آئے روز نوجوان نسل کے ایسے واقعات میں صرف ایک فرد ہی اپنا قاتل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ معاشرے کا اجتماعی قتل ہوتا ہے۔ قاتل کبھی استاد ہوتا ہے تو کبھی ادارہ،اور کبھی یہ کام والدین کرتے ہیں اور کبھی ہم سب یعنی یہ سماج۔
یونیورسٹی پروفیسرز کے پاس آپ کی ڈگری کی تکمیل تک تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں پر نام کا احتساب تو ہوتا ہے۔مگر پروفیسرز کے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سوال تک نہیں کیا جاسکتا۔ فیل کر دیا جائے،اسائنمنٹ میں گریڈز برباد کر دیے جائیں مگر آپ بول نہیں سکتے۔ بولیں گے تو سمجھو کہ ڈگری اب آسانی سے اور وقت پر تو مکمل نہیں ہونے والی۔ نفسیات میں اسے پاور ابیوز کہا جاتا ہے۔یونیورسٹی آف لاہور کا طالبعلم اویس بھی نفسیاتی دباؤ کا شکار رہا۔ اور پھر حالات اسے اس نہج پر لے گئے کہ جہاں اسے زندگی سے زیادہ موت کا رستہ آسان لگا۔ اور آج کے دن یونیورسٹی آف لاہور ہی کی فاطمہ نامی طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں۔ خودکشی کا خیال یونہی ایک دن میں ہی پیدا نہیں ہوجاتا۔ کبھی مہینوں تو کبھی سالوں کی ذہنی اذیت ہوتی ہے جو ایسے اقدامات پر انسان کو مجبور کر دیتی ہے۔ یہ اب پرانی نسل نہیں رہی صاحب!جسے آپ جیسے مرضی جس لاٹھی سے ہانپتے رہیں۔ یہ نئی نسل ہے، نئے ذہن ہیں، منفرد سوچتے ہیں۔ اور سمجھنے، سمجھانے کا طریقہ بھی الگ ہے انکا۔ اب وہ دور جاہلیت نہیں کہ باپ اور استاد کے ہر غلط صحیح کو یہ اخلاقی جواز حاصل ہو کہ چپ رہنا ہے، سہنا ہے۔
کہنے والے تو یہ اس لیے بھی کہیں گے کیونکہ یہ آسان مگر جھوٹا بیانہ ہے کہ یہ دونوں کمزور اور بزدل تھے کہ مشکلات سب پر آتی ہیں۔اصل کمزور تو یہ نظام ہے، جو اختیار اور طاقت تو دیتا ہے مگر ساتھ ضمیر نہیں دیتا۔اگر آج بھی آپ اور میں نے اسے صرف دو طالب علموں یا ایک یونیورسٹی کا معاملہ سمجھ کر چھوڑ دیا تو کل اویس اور فاطمہ کی جگہ کوئی اور نام ہوگا، اور تب بھی ہم صرف یہ پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر یہ بزدل جنریشن خودکشیاں کیوں کر رہی ہے۔
