Baaghi TV

امریکی آرمی چیف آف سٹاف جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیٹھ نےآرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق وزیر جنگ ایسا آرمی چیف آف اسٹاف دیکھنا چاہتے ہیں جو فوج سے متعلق صدر ٹرمپ اور خود انکے وژن پر عمل کرسکے،جنرل رینڈی جارج، بائیڈن دور کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے سینئر ملٹری اسسٹنٹ بھی رہے تھے۔ وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی شریک رہے ہیں،عام طور پر امریکا میں آرمی چیف آف اسٹاف چار سال کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، تاہم 2023ء میں سینیٹ سے توثیق حاصل کرنیوالے رینڈی جارج کو 2027ء تک یہ عہدہ سنبھالنا تھا،وائس چیف آف اسٹاف کرسٹوفر لانیو جو کہ ہیگسیتھ کے ملٹری ایڈ رہے ہیں وہ قائم قام آرمی چیف آف اسٹاف کا عہدہ سنبھالیں گے۔

امریکی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جس سے فوج کی بڑھتی ہوئی سیاست پر تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران میں ایک شہری پل پر حملے کی تشہیر کی ہے جسے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ جنگی جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

اس فیصلے نے محکمہ انصاف میں عدم استحکام اور سیاسی دباؤ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے،پام بونڈی، جو ٹرمپ کی قریبی اتحادی اور فلوریڈا کی سابق اٹارنی جنرل رہ چکی ہیں، تقریباً ایک سال تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ ان کا دور کئی تنازعات کا شکار رہا، خاص طور پر سیاسی نوعیت کے مقدمات میں ان کے کردار پر شدید تنقید کی گئی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کرتے ہوئے بونڈی کو “وفادار دوست” اور “محبِ وطن” قرار دیا، تاہم ساتھ ہی ان کی برطرفی کی تصدیق بھی کی۔اطلاعات کے مطابق ٹرمپ بونڈی کی کارکردگی سے ناخوش تھے، خاص طور پر جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق فائلوں کے معاملے اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی میں ناکامی پر۔ان کی برطرفی سے قبل کانگریس کی جانب سے بھی ان پر دباؤ بڑھ رہا تھا اور ان کے خلاف تحقیقات جاری تھیں۔

پام بونڈی کا دورِ اقتدار کافی متنازع رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، جس میں سرکاری وکلاء کی برطرفی اور مخالفین کے خلاف مقدمات شامل تھے۔ایپسٹین کیس کی ناقص ہینڈلنگ نے بھی ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور یہی معاملہ ان کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ بنا۔بونڈی کی برطرفی ٹرمپ حکومت میں حالیہ تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے بھی کابینہ کے دیگر اہم عہدیداروں کو ہٹایا جا چکا ہے، جس سے حکومت کے اندر عدم استحکام کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔ڈیموکریٹس نے بونڈی کی برطرفی کا خیر مقدم کیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ انہیں اپنے اقدامات کا حساب دینا ہوگا۔ کئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کانگریس کے سامنے پیش ہوں۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف بونڈی نہیں بلکہ پورا نظام ہے، جس میں محکمہ انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

More posts